رسائی کے لنکس

صومالی حکومت نے کہا ہے کہ ایک سابق سرکاری ملازم کی جانب سے دارالحکومت موغادیشو کے صدارتی محل کے باہر کیے جانے والے خودکش حملے میں حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکومتی ترجمان عبدالرحمن عمر نے 'وائس آف امریکہ' کی صومالی سروس کو بتایا ہے کہ حملہ آور کی شناخت عمر محمد دھبلاوی کے نام سے ہوئی ہے جو صدارتی محل کا سابق ملازم ہے۔

سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ دھبلاوی صدارتی محل کی جانب سے چلائی جانے والی مذہبی آگاہی کی مہم کا سربراہ رہ چکا ہے۔

القاعدہ سے منسلک شدت پسند صومالی تنظیم 'الشباب' نے بدھ کو کیے جانے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق دھبلاوی 2010ء کے اواخر میں 'الشباب' سے جا ملا تھا۔ حکام کے مطابق دھبلاوی کو گزشتہ برس حراست میں بھی لیا گیا تھا لیکن گرفتاری کے ایک ماہ بعد اسے رہائی مل گئی تھی۔

لیکن دھبلاوی کی اہلیہ نے حکومت کے ان دعووں کی تردید کی ہے کہ ان کا شوہر 'الشباب' کا رکن تھا۔ 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ دھبلاوی موغادیشو میں واقع تیل کی ایک فیکٹری میں کام کیا کرتے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی حمایت سے قائم ہونے والی صومالی حکومت کی افواج نے گزشتہ برس 'الشباب' کے جنگجووں کو موغادیشو سے باہر دھکیل دیا تھا جس کے بعد سے تنظیم دارالحکومت کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتی آئی ہے۔

موغادیشو کا قبضہ کھونے کے باوجود صومالیہ کےجنوبی اور وسطی علاقوں پر'الشباب' کے جنگجووں کا کنٹرول اب بھی برقرار ہے۔

تنظیم صومالیہ کی کمزور عبوری حکومت کا تختہ الٹ کر قرنِ افریقہ میں واقع اس ملک میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ خانہ جنگی کا شکار یہ افریقی ملک 1991ء سے کسی مستحکم مرکزی حکومت کے وجود سے محروم ہے اور حال ہی میں اسے بدترین خشک سالی اور قحط کا شکار بھی ہونا پڑا ہے جس کے اثرات تاحال برقرار ہیں۔

XS
SM
MD
LG