رسائی کے لنکس

حکام نے منگل کو بتایا کہ غوطہ خور ڈوبی ہوئی کشتی سے مزید لاشوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

جنوبی کوریا میں غرقاب ہونے والی مسافر کشتی میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام نے منگل کو بتایا کہ غوطہ خور ڈوبی ہوئی کشتی سے مزید لاشوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

عہدیداروں کے مطابق 200 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی اب زندہ نہیں بچے ہوں گے۔ پانچ منزلہ کشتی گزشتہ بدھ کو ایک سیاحتی جزیرے کے قریب ڈوب گئی تھی۔

غوطہ خوروں نے منگل کو 17 مزید لاشیں نکالیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ موسمی حالات میں بہتری کے ساتھ ہی امدادی کارروائیوں کی رفتار میں تیزی آئے گی۔

عہدیداروں کے مطابق تیز سمندری لہروں کے باعث امدای سرگرمیاں متاثر رہیں تاہم توقع ہے کہ منگل کو صورت حال بہتر ہو جائے گی۔

اس واقعے کو جنوبی کوریا میں گزشتہ دو دہائیوں میں بد ترین سمندری حادثہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں لگ بھگ 300 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

کشتی کے کپتان اور اُن کے دو دیگر معاونین کو ہفتہ کو گرفتار کیا گیا تھا اُن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ڈوبتی کشتی کے مسافروں کو بے یارو مددگارچھوڑ دیا تھا اور کپتان کشتی چھوڑنے والے اولین افراد میں شامل تھا۔

کپتان نے ڈوبتی کشتی کے مسافر کو نشستوں پر ہی بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور اس کی وجہ اُنھوں نے یہ بتائی کہ اُنھیں یہ خطرہ تھا کہ مسافر تیز رفتار پانی میں بہہ جائیں گے۔

جنوبی کوریا کی صدر گیون ہائی پارک نے پیر کو کہا تھا کہ کپتان اور عملے کے اقدامات ’’غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول ہیں‘‘ اور ’’قتل کے مترادف‘‘ ہیں۔
XS
SM
MD
LG