رسائی کے لنکس

سوڈان: متنازع علاقے ابیی کے حل کی ایک تازہ کوشش


سوڈان: متنازع علاقے ابیی کے حل کی ایک تازہ کوشش

شمالی اور جنوبی سوڈان کے نمائندے ، متنازع علاقے ابیی کے مسئلے کے حل کے لیے، جس پر ایک ہفتہ قبل شمالی سوڈان کی فورسز نے قبضہ کرلیاتھا،ہفتے کے روز ادیس بابامیں ملااقات کی ہے۔

جنوبی سوڈان کے نائب صدر ریک ماچر، شمالی سوڈان کے عہدے داروں کےساتھ کشیدگی میں کمی کی غرض سے ہفتے کے روز خرطوم پہنچے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہورہاہے جب شمالی اور جنوبی سوڈان کے وفود نے تنازع کے حل کے لیے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ملاقات کی۔

جنوبی سوڈان کے صدرسیلفا کیر نے ابیی کے علاقے سے سوڈان کی سرکاری فورسز کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ جنوبی سوڈان جنگ کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا۔

جنوبی سوڈان کے عہدے داروں کا کہناہے کہ لڑائیوں کے باعث لگ بھگ 80 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ جب کہ اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہناہے کہ ہزاروں بے گھر افراد کسی چھت کے بغیر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں اور ان کے پاس خوراک اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔

ہفتے کے روز تقریباً ایک سو افراد نے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں تشدد کے واقعات کے خلاف مظاہرہ کیا۔

سوڈان کے لیے خصوصی امریکی نمائندے پرنسٹن لیمن ، ابیی کی صورت حال پر بات چیت کے لیے قطر جارہے ہیں جس کے بعد وہ سوڈان کا سفر کریں گے۔

توقع ہے کہ وہ سوڈانی عہدے داروں پرزور دیں گے کہ وہ 19 جولائی کو جنوبی سوڈان کی آزادی کے اعلان سے قبل شمالی اور جنوبی حصے کے درمیان غیر حل شدہ مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں ۔

اس ہفتے کے شروع میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افریقی یونین سے اپیل کی تھی کہ وہ سوڈان پر زور دیں کہ فوجی قوت کی نمائش ابیی کے تنازع کا حل نہیں ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان ابیی کے مستقبل کے حوالے سے، جو تیل کی دولت سے مالامال علاقہ ہے اور شمالی اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر واقع ہے، اختلافات پائے جاتے ہیں۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر کہہ چکے ہیں کہ شمالی اور جنوبی سرحد پر واقع علاقہ بدستور شمال کے پاس رہے گا۔

XS
SM
MD
LG