رسائی کے لنکس

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی 45 سالہ ہارون کو 'ایبولا' وائرس کا ملک کا پہلا مشتبہ مریض بتایا جارہا ہے۔

مختلف ممالک میں 'ایبولا' وائرس کے مریضوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی ایبولا کے مشتبہ مریض کی آمد پر ملک میں وائرس کے داخلے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی 45 سالہ ہارون کو 'ایبولا' وائرس کا ملک کا پہلا مشتبہ مریض بتایا جارہا ہے۔

ہارون چند روز قبل ہی لائیبریا سے وطن واپس پہنچا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر تیز بخار کی علامت ظاہر ہونے کے باعث صوبائی حکومت کے محکمہ صحت کو خدشہ ہے کہ کہیں وہ 'ایبولا' کا شکار نہ ہو۔

مریض کو نگہداشت کے لیے اسے جناح اسپتال کے قرنطینہ وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

جناح اسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کی سربراہ سیمی جمالی نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ "محمد ہارون نامی مریض کا باقاعدہ چیک اپ کیا گیا ہے جس میں ہم نے دیکھا ہے کہ اب مریض کی حالت بہتر ہے اور اس کا بخار اتر گیا ہے۔ مریض نے پورا دن اچھی طرح بات چیت بھی کی ہے۔"

سیمی جمالی نے مزید بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کی آمد کے بعد مریض کے خون کے نمونے لے لیے گئے ہیں اور جب تک ٹیسٹ رپورٹ نہیں آجاتی مریض کو ڈسچارج نہیں کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق 45 سالہ محمد ہارون لائبیریا میں ملازمت کرتا ہے جہاں سے واپسی پر تیز بخار کی حالت میں اسے جناح اسپتال منتقل کیاگیا تھا ۔

مشتبہ مریض کے خون کے نمونوں کو 'ایبولا' کے ٹیسٹ کیلئے قاہرہ بھیج دیا گیا یے۔

دریں اثنا مشتبہ مریض کے سامنے آنے بعد سندھ کے صوبائی سیکرٹری صحت اقبال درانی کی زیر صدارت ایبولا اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں کراچی میں مختلف وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تشخیص کے لیے محکمہ صحت کے تحت ایک تشخیصی لیبارٹری قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG