رسائی کے لنکس

شام: تشدد کے تازہ واقعات میں 13 افراد ہلاک


شام: تشدد کے تازہ واقعات میں 13 افراد ہلاک

شام: تشدد کے تازہ واقعات میں 13 افراد ہلاک

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہناہے کہ ملک بھر میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جمعرات کے روزجھڑپوں کے کئی واقعات ہوئے ، جن میں کم ازکم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی لندن میں قائم ایک تنظیم نے کہاہے کہ جمعرات کے روز ترک سرحد کے قریب پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ تنظیم کی رپورٹ میں عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صوبہ ادلب کے شمال مغربی قصبے بینش میں سرکاری فورسز کے چھاپوں کے دوران دھماکوں اور مشین گنوں کی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

سرگرم کارکنوں نےبتایا کہ صوبہ درا میں سرکاری فورسز اور لوگوں کے درمیان، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ فوج کے منحرفین تھے، اس علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں جسے حالیہ تحریک کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کے ایک مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔

کارکنوں کا کہناہے کہ ان جھڑپوں میں کم ازکم آٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں چھ سپاہی بھی شامل تھے۔

صدر بشارالاسد کی حکومت اپنے مخالفین اور فوج سے بغاوت کرکے مظاہرین کے ساتھ مل جانے والے فوجیوں کو کچلنے کے لیے ، جو ان کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں، فوجی قوت استعمال کررہی ہے۔

یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہناہے کہ جمعرات کے روز یورپی یونین نے شام کے خلاف تازہ ترین پابندیوں کے سلسلے میں شام کے تجارتی بینک کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا جن کا مقصد مسٹر اسد کی حکومت پر تشدد ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

XS
SM
MD
LG