رسائی کے لنکس

برطانیہ میں قائم سیئرین آبزویٹری فار ہیومین رائٹس نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر کرد شہری تھے جو الحسکہ شہر میں ’نوروز‘ کی تقریب میں شریک تھے۔

شام میں تشدد کے واقعات پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کے نگرانوں نے بتایا ہے کہ ایک خودکش اور کار بم دھماکے میں 20 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکا جمعہ کو ’نوروز‘ کی تقریبات کے دوران ہوا۔ نوروز بہار کی آمد پر ایرانی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے اور یہ کئی دیگر ممالک خاص طور پر جہاں فارسی بولنے والے رہتے ہیں وہاں بھی منایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں قائم سیئرین آبزویٹری فار ہیومین رائٹس نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر کرد شہری تھے جو الحسکہ شہر میں ’نوروز‘ کی تقریب میں شریک تھے۔

ان دھماکوں کا الزام شدت پسند تنظیم داعش پر عائد کیا جا رہا ہے تاہم کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا کہ یہ حملہ ’’دہشت گردوں‘‘ نے کیا۔ شامی حکومت یہ الفاظ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسر پیکار باغیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

شام میں کرد سکیورٹی فورسز کے کمانڈر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر لکھا کہ جمعہ کو ہونے والے حملے کا جواب دیئے بغیر نہیں رہا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG