رسائی کے لنکس

اسد اقتدار سے چمٹے رہے تو لڑائی میں شدت آئے گی: کیری


کیری اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

کیری اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

منگل کو لندن میں ہونے والے اجلاس میں برطانیہ، مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے اہل کار شریک ہوں گے

امریکی وزیر خارجہ، جان کیری نے کہا ہے کہ جب تک صدر اسد اقتدار سے وابستہ رہتے ہیں، شام کے تنازع کا پُر امن حل ممکن نہیں۔

کیری نے یہ بات پیر کے روز قطر کے وزیر خارجہ خالف العطیعہ اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کہی۔

وہ اِن خبروں پرتبصرہ کر رہے تھے، جِن میں کہا گیا تھا کہ مسٹر اسد اگلے سال دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اُن کے بقول، ’میں نہیں سمجھتا کہ مخالفین میں سے کوئی بھی شخص اس بات پر قائل ہوگا کہ وہ (عبوری) حکومت میں شمولیت کے لیے بشار الاسد کے نام کی توثیق کرے۔ اور اگر وہ (بشار الاسد) یہ خیال کرتے ہیں کہ دوبارہ انتخابات لڑنے سے وہ مسائل حل کرلیں گے، تو میں واضح طور پر اُنھیں یہ بتا دوں کہ جب تک حالات جوں کے توں ہیں اور وہ (اسد) وہیں پر ہیں، تو یہ جنگ ختم نہیں ہوگی‘۔

کیری منگل کو لندن جائیں گے جہاں وہ ’فرینڈز آف سیریا‘ کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے ارکان اور شامی اپوزیشن سے ملاقات کریں گے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہونے والے ہیں جب طویل انتظار کے بعد شام پر امن کانفرنس بلائے جانے کی کوششیں جاری ہیں، جن میں حکومت شام اور مخالفین شریک ہوں گے، جس کا مقصد مذاکرات کے ذریعے ملکی بحران کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔

کیری نے ایسے اجلاس کو فی الفور بلائے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اِن مذاکرات کی تاریخ کے تعین کے سلسلے میں اہل کاروں نے گذشتہ ہفتے متضاد قسم کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی حکام نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ یہ اجلاس نومبر کے اواخر تک ہی منعقد ہو سکتا ہے۔

اس تاریخ کے تعین کا دارومدار اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی، لخدار براہیمی پر منحصر ہے۔ پیر کے دِن بغداد میں قیام کے دوران اُنھوں نے شام کی صورتِ حال کے بارے میں ایک بھیانک جائزہ پیش کیا۔

اپوزیشن راہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ وہ تب تک مجوزہ امن اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، جب تک صدر اسد اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوجاتے۔ مسٹر اسد اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ 2014ء میں اپنی میعاد پوری ہونے تک عہدے بر براجمان رہیں گے، اور ممکنہ طور پر دوبارہ منتخب ہونے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں۔

منگل کو لندن میں ہونے والے اجلاس میں برطانیہ، مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے اہل کار شریک ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG