رسائی کے لنکس

شام کی حکومت اور حزب مخالف کے مذاکراتی عمل کا آخری روز


حزب مخالف کے ایک ترجمان

حزب مخالف کے ایک ترجمان

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی نے کہا ہے کہ یہ ابھی صرف بات چیت کا ’’ابتدائی عمل‘‘ ہے اور انھیں امید ہے کہ آئندہ دور میں زیادہ قابل ذکر بات چیت ہو گی۔

شام کی حکومت اور حزب مخالف کے درمیان بات چیت کا پہلا دور جمعہ کو مکمل ہو رہا ہے، جس میں بہت ہی کم پیش رفت ہوئی ہے۔

جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات کے آخری روز توقع ہے کہ فریقین میں دوبارہ ملاقات پر اتفاق ہوگا اور یہی اس سات روزہ مذاکراتی دور میں ہونے والی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی نے کہا ہے کہ یہ ابھی صرف بات چیت کا ’’ابتدائی عمل‘‘ ہے اور انھیں امید ہے کہ آئندہ دور میں زیادہ قابل ذکر بات چیت ہو گی۔

مذاکرات کے دوران دونوں دھڑے اس پر بھی اتفاق نہ کر سکے کہ بات چیت کن امور پر ہونی چاہئیے۔

شام کی حکومت مذاکرات کا آغاز دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت سے کرنا چاہتی ہے اور جمعرات کو اس نے ایک حل بھی پیش کیا جس میں ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ کے لیے سرمائے کی فراہمی ختم کرنے پر زور دیا گیا۔

حزب مخالف نے اس کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ قرار داد ’’یکطرفہ‘‘ ہے اور عبوری حکومت کی تشکیل سے پہلے اس پر بات کرنا بیکار ہے۔

دمشق کے نمائندوں نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حزب مخالف اس اعلامیے کو اس لیے مسترد کر رہی ہے کہ کیونکہ وہ خود ’’ دہشت گرد‘‘ ہے۔

دونوں فریق شام میں خانہ جنگی سے شدید متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے مسئلےکے حل پر بھی کوئی پیش رفت کرنے میں ناکام رہے، جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ایسا ہے جس میں دونوں کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

براہیمی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر بہت مایوس ہیں کہ اقوام متحدہ باغیوں کے زیر تسلط محصور شہر حمص میں امداد مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جہاں باور کیا جاتا ہے کہ لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔

شام میں مارچ 2011ء میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والا پرامن احتجاج آگے چل کر خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا اور اقوام متحدہ کے بقول وہاں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG