رسائی کے لنکس

سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ مسٹر اسد کی فوج نے باغیوں کی تازہ ترین پیش قدمی کا جواب بابا امر پر توب خانے سے فائر اور فضائی حملوں کی کارروائیوں سے دیا ہے

شام کی حزب مخالف سےتعلق رکھنےوالے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھاتے ہوئے فیصلہ کُن وار کیا ہے، تاکہ مرکزی شام کے سابق باغیوں کے مضبوط ٹھکانوں کو دوبارہ حاصل کیا جاسکے، اور مشرق میں ایک مذہبی کونسل قائم کی جائے۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ باغیوں نے اتوار کے روزحمص کے مرکزی شہر کےبابا امر ضلعے پر دھاوا بول دیا، جس سے ایک برس قبل ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے، جب حکومتی افواج نے باغیوں کو شہر سے باہر نکال دیا تھا۔

اِس فتح کے حوالے سے، مسٹر اسد نے گذشتہ مارچ میں بابا امر کا دورہ کیا تھا، جس میں اُنھوں نے وعدہ کیاکہ تباہ شدہ مضافات کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔


سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ مسٹر اسد کی فوج نے باغیوں کی تازہ ترین پیش قدمی کا جواب بابا امر پرتوب خانے سے فائر اور فضائی حملوں کے ذریعے دیا ہے۔

اس سے کچھ ہی روز قبل، شامی فوجوں نے حمص کے خالدیہ جیسے اضلاع سے باغیوں کو باہر نکالنے کے لیے کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں۔

سرگرم کارکنوں نے بتایا ہے کہ اِن علاقوں پر دباؤ میں کمی لانے کی غرض سے باغی بابا امر کے دوسرے علاقوں کی طرف بکھر گئے ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اسلام پسند باغیوں نے بھی مشرقی شام میں ایک نئی مذہبی کونسل کا اعلان کیا ہے، جو کہ صدر اسد کے 12سالہ آمرانہ دور حکومت کے خلاف دو برس سے جاری بغاوت کا ایک حصہ ہے۔

اپوزیشن کے طرف سے ہفتے کو یوٹیوب پر ڈالی گئی ایک وڈیو میں اس مذہبی قافلے کو مشرقی قصبے سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس نے کالے پرچم کا لباس پہن رکھا ہے، اور ایک عمارت پر ایک کتبہ لگایا جا رہا ہے، جس میں علاقائی کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔

آبزرویٹری نے کہا ہے کہ یہ اسلام پسند کونسل عدالت اور پولیس معاملات کو زیر اثر کرنے کا خواہاں ہے۔

اس سے قبل اِسی ماہ، باغیوں نے رقعہ کے مشرقی شہر کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جو شام کا پہلا صوبائی دارالحکومت ہے، جو شورش کے آغاز سے اب تک باغیوں کے قبضے میں آچکا ہے۔
XS
SM
MD
LG