رسائی کے لنکس

شام میں حکومت مخالف مزید مظاہرے


شام میں حکومت مخالف مزید مظاہرے

شام میں حکومت مخالف مزید مظاہرے

شام کے ساحلی شہر لاذقیہ کے عینی شاہدین کا کہناہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز حکومت مخالف مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے اصلی گولیاں چلائیں۔

تشدد کے اس تازہ واقعہ سے ایک روز قبل شام کے مختلف حصوں میں مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کے تشدد کے نتیجے میں کم ازکم 36 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت مخالف سرگرم کارکنوں نے ایک نئی حکومت کے قیام کے لیے ہفتے کے روز مزید مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جمعے کے روزمظاہرین پر تشدد سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے بعدشاہروں پرمظاہرے کریں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سیکیورٹی فورسز کے تشدد سے صدر بشارالاسد اور اس کی حکمران جماعت بعث پارٹی کے خلاف مظاہروں میں شریک کم ازکم 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ زیادہ ترہلاکتیں جنوبی شہر ردعا اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ہوئیں۔

شام کے حکام نے مسلح گروپوں کو ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ جمعے کے روز سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ قاتلوں نے جنوبی شہر درعا میں 19 پولیس اہل کاروں کو ہلاک کردیا۔

ان ہلاکتوں کے بعد شام کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے کسی رعایت کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نےشام میں تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ ہفتے کے روز جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں انہوں نے حکومت پر بامقصد سیاسی اصلاحات کے نفاذ پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG