رسائی کے لنکس

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے چھ مختلف مقامات پر کرد اسلحہ خانے، پناہ گاہوں اور غاروں کو نشانہ بنایا۔ ترک وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، شمالی شام میں کرد باغیوں اور داعش کے مسلح جنگجوؤں کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے سے جاری حملوں میں یہ سب سے بڑا حملہ تھا

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے صدر طیب اردگان کے اس بیان کے فوری بعد کہ امن کی کوششیں جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا، عراق کے شمالی علاقے میں بدھ کو مسلح کُرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی ہے۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے چھ مختلف مقامات پر کُرد اسلحہ خانے، پناہ گاہوں اور غاروں کو نشانہ بنایا۔ ترک وزیر اعظم احمد اوگلو کے دفتر کے مطابق، شمالی شام میں کرد باغیوں اور دولت اسلامیہ کے مسلح جنگجوؤں کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے سے جاری حملوں میں یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

عراق نے بڑھتے ہوئے خطرات اور عراقی خود مختاری کی بنیاد پر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر اوگلو نے کردوں اور داعش کے خلاف جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مساوی قرار دے دیا۔

لیکن، عراق اور شمالی ترکی میں کردش ورکر پارٹی کے نشانوں کے خلاف ترکی کا حملہ زیادہ بڑا ہے۔ ترکی کی حامی کُرد اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اردگان کے یہ حملے اس سال جون کے انتخابات میں پارٹی کی طاقت کے مظاہرے کے خلاف انتقامی کارروائی ہے، جس کی وجہ سے حکمراں پارٹی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت قائم رکھنے میں ناکام رہی تھی۔

کردوں کی حامی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد صلاح الدین ڈیمرٹ کے بقول، ’ہمارا واحد جرم یہ ہے کہ ہم نے 13 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔‘

طیب اردگان نے 1984ء سے جاری ’پی کے کے‘ کی بغاوت کے خاتمے کے لئے سنہ 2012 میں کرد مفادات کے تحت امن مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ لیکن، منگل کو انھوں نے کہا کہ یہ امن مذاکرات جاری رکھنا اب ممکن نہیں اور پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان قانون سازوں کے ان مسلح جنگجوں سے رابطے کے باوجود انھیں مقدمے کا سامنا کرنے سے بچاو کی حاصل رعایتوں کا جائزہ لیں۔

نیٹو نے منگل کو ترکی کی درخواست پر ان کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ترکی کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے لئے کئے گئے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی گئی۔

امریکہ نے سوموار کو بتایا تھا کہ وہ ترکی کے ساتھ مل کر شمالی شام میں داعش کے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے باعث خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔

امریکی حکام نے نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ دولت اسلامیہ فری زون کے قیام کا مقصد شام کے ساتھ ترکی کی سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔ لیکن، حکام یہ بھی کہتے ہیں ہیں کہ امریکہ ترکی مشترکہ فوجی آپریشن میں اس میں خطے میں نو فلائی زون کے مطالبے کو تسلیم کرنا شامل نہیں۔

XS
SM
MD
LG