رسائی کے لنکس

ان انتخابات میں پانچ کروڑ 40 لاکھ سے زائد شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ملک بھر میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔

ترکی کے شہری اتوار کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔

جون میں ہونے والے عام انتخابات میں صدر رجب طیب اردوان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ ( اے کے ) پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی جس کے بعد یہ انتخابات دوبارہ منعقد کیے گئے۔

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اغلو نے رائے دہندگان پر زور دیا کہ وہ سیاسی استحکام کے لیے اے کے پارٹی کا چناؤ کریں جب کہ دوسری طرف حزب مخالف کو امید ہے کہ وہ داؤد اغلو کو ایک اتحادی حکومت بنانے پر مجبور کریں گے۔

ان انتخابات سے پہلے انتخابی مہم میں اتنا جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا ہے جتنا جون کے انتخابات سے پہلے تھا۔ تاہم صدر اردوان نے ہفتے کو استنبول کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد کہا کہ "یہ انتخابات استحکام اور اعتماد کے تسلسل کے لیے ہیں"۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان انتخابات میں ترکی کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ اے کی پارٹی کو اقتدار میں لا کر ملک کو سیاسی استحکام دے سکے۔

صدر طیب اردوان ان انتخابات میں شامل نہیں ہیں تاہم ووٹروں کی طرف سے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا آیا کہ وہ اپنی جماعت کو پارلیمانی انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کر سکیں گے یا نہیں۔

ان انتخابات میں پانچ کروڑ 40 لاکھ سے زائد شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ملک بھر میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔

ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

گزشتہ جون میں ہونے والے انتخابات کے بعد ملک کی سلامتی کی صورت حال خراب ہے اور کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی۔ اسی دوران ترکی کو دو خود کش دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں لگ بھگ 130 افراد ہلاک ہوئے۔

ترکی کو گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی بے یقینی کا سامنا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG