رسائی کے لنکس

ورجینیا: دو صحافی قتل، تعاقب کے دوران مشتبہ قاتل بھی ہلاک


ٹی وی پر نشر ہونے والا وہ انٹرویو جس کے دوران فائرنگ ہوئی

ٹی وی پر نشر ہونے والا وہ انٹرویو جس کے دوران فائرنگ ہوئی

حکام نے بتایا ہے کہ مبینہ مسلح شخص نے، جو اِسی ٹیلی ویژن اسٹیشن کا ایک سابق ملازم تھا، جہاں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کام کیا کرتے تھے، واشنگٹن کے باہر ہائے وے پر پولیس کی مزاحمت پر اپنے آپ کو گولی مار دی

مشتبہ حملہ آور کی تلاش بالآخر ختم ہوگئی ہے، جس نے امریکی ریاست ورجینیا میں ٹی وی کی براہِ راست نشریات کے دوران دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

حکام نے بتایا ہے کہ مبینہ مسلح شخص نے، جو اِسی ٹیلی ویژن اسٹیشن کا ایک سابق ملازم تھا جہاں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کام کیا کرتے تھے، واشنگٹن کے باہر ہائے وے پر پولیس کے تعاقب کے دوران اپنے آپ کو گولی مار دی۔

ٹی وی کے عملے پر حملہ امریکہ کی جنوب مغربی ریاست ورجینیا کے شہر رونوک کے قریب کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، ویسٹر فلینیگن کی ہلاکت خود رسیدہ زخموں کے باعث ہوئی، جب ہائے وے پر تعاقب کے دوران مشتبہ شخص نے اپنے آپ کو گولی مار دی۔

اس سے قبل موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کی ریاست ورجینیا میں ایک مسلح شخص نے ٹی وی کی براہِ راست نشریات میں مصروف دو صحافیوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔

حکام کےمطابق فائرنگ کا واقعہ بدھ کی صبح پونے سات بجے کے لگ بھگ ورجینیا کے علاقے 'بیڈ فورڈ کاؤنٹی' میں پیش آیا۔

حکام کے مطابق ایک مقامی ٹی وی سے منسلک خاتون صحافی اور ان کا کیمرہ مین 'برج واٹر پلازا' نامی شاپنگ سینٹر میں ایک خاتون کا انٹرویو کر رہے تھے جو ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا جارہا تھا۔

کوریج کے دوران ہی ایک مسلح شخص نے صحافیوں کی ٹیم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 24 سالہ رپورٹر ایلی سن پارکر اور ان کے 27 سالہ کیمرہ مین ایڈم وارڈ ہلاک ہوگئے۔

دونوں صحافی 'ڈبلیو ڈی بی جے7' نامی ایک مقامی ٹی وی چینل سے منسلک تھے جو معروف امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کا حصہ ہے۔

فائرنگ کے نتیجے میں وکی گارڈنر نامی ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں جو علاقے کی چیمبر آف کامرس کی صدر ہیں اور حادثے کے وقت ٹی وی ٹیم کو انٹرویو دے رہی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور کو تلاش کر رہی ہے جس کی چند جھلکیاں واقعے کے دوران ٹی وی پر براہِ راست نشر ہوئی ہیں۔

ٹی وی پر حادثاتی طور پر نشر ہونے والی واقعے کی فوٹیج میں ایک سفید فام مسلح شخص دیکھا جاسکتا ہے جو گہرے رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہے۔

فائرنگ کا واقعہ براہِ راست نشر ہونے کے فوراً بعد چینل پر موجود ایک میزبان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم ایک فیچر اسٹوری کے سلسلے میں علاقے میں گئی تھی جس کے دوران ان پر فائرنگ ہونا عجیب واقعہ ہے۔

ٹی وی چینل کے صدر جیفری مارکس نے ٹی وی سامعین کو بتایا کہ لائیو نشریات کے دوران انہیں اپنی ٹیم کے چیخوں کی آواز سنائی دی جس کے بعد پہلے کیمرہ اپنی جگہ سے ہلا اور پھر نیچے گرگیا۔

XS
SM
MD
LG