رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی جنوبی سوڈان میں لڑائی کی مذمت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں کے درمیان اس عارضی جنگ بندی معاہدے پردستخط گزشتہ سال ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کی دو شمالی ریاستوں میں لڑائی اور عارضی جنگ بندی معاہدے کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں کے درمیان اس عارضی جنگ بندی معاہدے پردستخط گزشتہ سال ہوئے تھے۔

اتوار دیر گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ یونٹی ریاست میں سرکاری فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے 1,00,000 افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور عام شہریوں تک امداد کی فراہمی رک گئی ہے۔

سلامتی کونسل نے باغیوں پر بھی بالائی نیل کی ریاست میں واقع مالا کل کے قصبے پر حملے کا الزام عائد کیا۔

جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر کی حکومت اور سابق صدر ریک ماچار کی حمایت کرنے والے باغیوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کرنے والے مشرقی افریقہ کے ممالک کے ایک اتحاد نے کہا کہ انہیں باغیوں کی طرف سے مالاکل پر قبضے کے دوران کیے جانے والے تشدد پر "شدید مایوسی " ہوئی ہے۔

حکومت نے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ اس کی فورسز نے عارضی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ فوجیوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔

جمعہ کو وزارت خارجہ نے جنوبی سوڈان میں امریکی ناظم الامور مائیکل میکارتھی کو طلب کر کے ان کی طرف سے ان کے اس ریڈیو انٹرویو کے بارے میں بات کی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ دونوں فریقوں نے یونٹی کی ریاست میں عارضی جنگ کی خلاف ورزی کی ہے۔

جمعہ کو ایک دوسرے انٹرویو میں میکارتھی نے ریڈیو میرایا کو بتایا کہ فوج کو دفاع کرنے کی اجازت ہے تاہم تازہ ترین تشدد کے نوعیت اور دائرہ عمل کے بارے میں ریاست متحدہ امریکہ کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو ابھی ابھی بے گھر ہوئے ہیں اور اس طرح کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں کہ کئی دیہات مکمل طور پر تباہ کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو کچھ ہو چکا ہے اس کی تحقیقات کی جائیں اور تشدد کو روکا جائے۔

میکارتھی نے کہا کہ "اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے تو پھر لڑنے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ لڑائی بند کریں۔

XS
SM
MD
LG