رسائی کے لنکس

’شام تنازعہ‘، حل میں بشار الاسد کی موجودگی ناگزیر: ایلچی اقوام ِمتحدہ


اقوام ِمتحدہ کے ایلچی اور صدر اسد ۔۔۔

اقوام ِمتحدہ کے ایلچی اور صدر اسد ۔۔۔

اقوام ِمتحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ، ’شام کا ایک بڑا حصہ شامی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور میں اس حوالے سے شامی صدر کے ساتھ اہم مذاکرات جاری رکھوں گا کیونکہ وہ اس تنازعے کے حل میں ایک اہم فریق ہیں‘۔

اقوام ِمتحدہ کے شام کے لیے ایلچی سٹیفن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ شام میں جاری پُرتشدد کارروائیوں کے خاتمے کے کسی بھی مجوزہ حل میں شامی صدر بشار الاسد کی موجودگی ناگزیر ہے۔

ایلچی سٹیفن ڈی میستورا نے یہ بھی کہا کہ وہ رواں ہفتے کے آغاز میں دمشق میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی شامی صدر بشار الاسد سے مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اقوام ِمتحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی میستورا شام میں جاری پُرتشدد کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کی رُو سے شام کے شمالی شہر حلب میں جاری لڑائیاں تھم سکیں گی۔

ایلچی سٹیفن ڈی میستورا کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ ماضی میں ہوئی ملاقاتوں میں بھی یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں۔

اقوام ِمتحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی میستورا کا، جو ویانا میں ہیں اور آسٹریا کے وزیر ِخارجہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، کہنا ہے کہ شام کے زیادہ تر حصے اب بھی حکومتی کنٹرول میں ہیں اور صدر اسد شام میں ’تشدد میں کمی اور خاتمے کے حوالے سے حل‘ کا حصہ تھے۔

امریکہ کا شمار بھی ان مغربی طاقتوں میں کیا جاتا ہے جن کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے جمہوریت پسندوں کے پُرامن احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت کا پُر تشدد جوابی رد ِعمل درست اقدام نہیں تھا اور اس اقدام کے بعد صدر اسد شام کی قیادت کے اہل نہیں رہے۔

شام کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اقوام ِمتحدہ کے ایلچی کا مزید کہنا تھا کہ میں کسی ’حتمی حل یا نتیجے‘ کے بارے میں بات نہیں کر رہا اور اس بارے میں اصل کردار شامی فریق ہی ادا کریں گے۔

اس سے قبل ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام ِمتحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ، ’شام کا ایک بڑا حصہ شامی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور میں اس حوالے سے شامی صدر کے ساتھ اہم مذاکرات جاری رکھوں گا کیونکہ وہ اس تنازعے کے حل میں ایک اہم فریق ہیں‘۔

واضح رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی اپنے پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے اور اب تک ان لڑائیوں کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG