رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کی ایک ٹیم نے ہفتہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری پر گولہ باری سے متاثر ہونے والے پاکستانی دیہات کا دورہ کیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تین رکنی ٹیم نے سیالکوٹ کے علاقے میں کندن پور نامی دیہات کا دورہ کیا اور یہاں بھارتی فورسز کی سرحد پار سے کی گئی فائرنگ و گولہ باری سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا۔

جمعہ کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے سرحد پر فائربندی کی مبینہ خلاف ورزی کی گئی جس کم از کم آٹھ پاکستانی شہری ہلاک اور چالیس سے زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی سرحدی فورس کی طرف سے بھی کہا گیا تھا کہ سرحد پار پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے اس کے ہاں بھی تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحد اور متنازع علاقے کشمیر کو تقسیم کرنے والی عارضی حدبندی پر فائرنگ و گولہ کے تبادلوں میں اضافہ ہوا جن میں دونوں جانب متعدد شہری اپنی جان گنوا چکے ہیں اور یہ واقعات پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بنے ہیں۔

پاکستان کی درخواست پر گزشتہ ماہ بھی اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی ایک ٹیم نے بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ باؤنڈری پر دیہات کا دورہ کیا تھا۔

ادھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیالکوٹ کے فوجی اسپتال میں داخل بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔

جمعہ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی اسپتال میں مریضوں کی عیادت کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

حکام کے مطابق انھوں نے سرحد پار فائرنگ و گولہ باری کا بھرپور جواب دینے پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سراہا۔

جمعہ کو ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان کو طلب کر کے فائربندی کی بھارتی خلاف ورزی پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

امریکہ دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان سرحد پر پیش آنے والے واقعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے اور اس نے زور دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں جو کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔

اسی اثناء میں اطلاعات کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس اتوار کو اسلام آباد پہنچ رہی ہیں۔

تاہم اس بارے میں نہ تو امریکی سفارتخانے اور نہ ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال کوئی بیان جاری کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG