رسائی کے لنکس

نیو یارک میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد


نیو یارک میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

نیو یارک میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

نیو یارک میں منعقد کردہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا اختتام اتوار کی شام پاکستان کے مشہور شاعر و مصنف امجد اسلام امجد کی صدارت میں منعقد کی گئی محفلِ مشاعرہ سے ہوا۔

اس سہ روزہ کانفرنس میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے اردو شعراء اور اردو ادب سے متعلق اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کی نسبت سے اس کانفرنس میں فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے لاہور میں جاری ’فیض گھر‘ پراجیکٹ پر گفتگو کی اور اس کی ڈاکومنٹری فلم بھی دکھائی۔

افتتاحی اجلاس میں کینیڈا کے ادیب ڈاکٹر تقی عابدی کی چودہ سو صفحات پر مشتمل کتاب ’فیض فہمی‘ کی تقریب رونمائی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ مشاعرے کی سرخیوں میں ایک شام غزل بھی شامل تھی جس میں بھارت سے آنے والی فنکارہ سیما سہگل نے اپنے فن سے حاضرین کو محظوظ کیا۔

نیو یارک سے چھپنے والے اردو اخبار دی اردو ٹائمز کے تحت اس پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے منتظم خلیل الرّحمان نے بتایا کہ اس سے پہلے اردو پر امریکہ میں جو بھی پروگرام ہوئے وہ عمومًا چند گھنٹے سے زیادہ کے نہیں ہوتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کانفرنس میں اردو کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے، مقالے پیش کیے جاتے ہیں، کتابی میلہ ہوتا ہے، محفل مشاعرہ اور شام غزل منعقد کی جاتی ہے اور نایاب کتابوں کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔

اردو کے فروغ پر ان کا کہنا تھا کہ ’’آج ہمارا سارا دانشور کاروبار کر رہا ہے۔ ہمارے شاعر، ادیب کسی زبان کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ کچھ لوگ ہیں جو بہت اچھے لوگ ہیں مگر ان کی شہرت، مرتبہ اور مقام وہ نہیں ہیں جو انہیں ملنا چاہیے۔ کیونکہ وہ اتنے شریف لوگ ہیں کہ وہ اپنا قد بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘‘

اس کانفرنس کو فیض سے نسبت دینے کی وجہ بتاتے ہوئے مسٹر رحمان نے کہا کہ ’’فیض سے میں بہت پیار کرتا ہوں اور وہ میرے نظریاتی پیر ہیں۔‘‘

لندن سے کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ڈیوڈ میتھیوز چالیس برس تک لندن یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے رہے ہیں اور کچھ عرصہ قبل ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کانفرنسیں انہیں بہت پسند ہیں کیونکہ ’بہت پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر حبیب رحیم نے بھی اس کانفرنس میں ایک مقالہ پیش کیا۔ ان کے مطابق اس قسم کی کانفرنس سے دو قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ادبی سطح پر اس کانفرنس کے ذریعے نئی کتابیں، نئے مقالے، نئی تحقیق وغیرہ سامنے آتی ہے۔ جبکہ سماجی سطح پر وہ لوگ جو گزشتہ کانفرنسوں میں مل چکے ہیں، انہیں موقع مل جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اپنے کام پر بات کر سکیں اور نئے وسائل کی دریافت میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔

خلیل الرحمان کا کہنا ہے کہ وہ اگلی عالمی اردو کانفرنس کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG