رسائی کے لنکس

بجٹ کٹوتی کے فضائی سفر اور صنعت پر اثرات

  • کرس سمکنس

سرکاری عہدے دار کہتے ہیں کہ بجٹ میں کمی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کارکنوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور مسافروں کو سیکورٹی کلیئرنگ اور کسٹمز کی چیکنگ کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔

اس مہینے کے شروع سے امریکی حکومت کو اپنے اخراجات میں 85 ارب ڈالر کی کمی کرنی پڑ رہی ہے ۔ بجٹ میں اس لازمی کمی سے، جسے اسکوئسٹر کا نام دیا گیا ہے، وفاقی حکومت کا تقریباً ہر محکمہ متاثر ہوا ہے اور بہت سے ملازمین کو یکم اپریل سے بلا تنخواہ چند روز کی چھٹی دے دی جائے گی ۔ بجٹ میں اس کمی سے ہوائی سفر اور ہوائی جہازوں کی صنعت بھی متاثر ہو گی ۔

امریکہ میں ایئر پورٹس پر اترنا اور وہاں سے سفر کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔ مسافروں کو جہازوں سے اترنے کے بعد، اور سفر شروع کرنے سے پہلے، تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ مسئلہ اس وقت شروع ہو گا جب اپریل میں ملک کے شہری ہوا بازی کے شعبے پر سرکاری اخراجات میں لازمی کمی کے اثرات سامنے آئیں گے۔ امریکہ کے ٹرانسپورٹیشن کے وزیر رے لاہوڈ نے کہا ہے’’ہمارے لیے یہ بڑی تکلیف دہ صورتِ حال ہے کیوں کہ اس سے ہمارے ملازمین متاثر ہوں گے۔ لیکن اصل پریشانی تو ہوائی سفر کرنے والے لوگوں کو ہو گی۔‘‘

سرکاری عہدے دار کہتے ہیں کہ بجٹ میں کمی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کارکنوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور مسافروں کو سیکورٹی کلیئرنگ اور کسٹمز کی چیکنگ کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔

بجٹ میں کٹوتی کے نتیجے میں یہ بھی ہو گا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو لازمی طور پر بغیر تنخواہ کی چھٹی لینی پڑے گی ۔ ٹاور میں کنٹرولرز کی تعداد کم ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ واشنگٹن جیسی مصروف ترین ایئر پورٹس میں جہازوں کی آمدو رفت میں خلل پڑے گا۔ پائلٹوں کی رہنمائی کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تعداد کم ہوگی، تو بڑے ایئر پورٹس پر جہازوں کی روانگی میں 90 منٹ تک کی تاخیر ہو سکتی ہے ۔

نیشنل ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ایشن کے مٹ بیرڈ کہتے ہیں ’’کنٹرول ٹاور میں کنٹرولرز کی ایک مخصوص تعداد موجود ہونی چاہیئے۔ اگر وہ ہمیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اتنے لوگ ڈیوٹی پر نہیں ہو سکتے، تو پھر ہم اتنے زیادہ جہازوں یا اتنے زیادہ ٹریفک کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘‘

میریان بلاکی واشنگٹن میں ایرواسپیس انڈسٹریز ایسو سی ایشن کی صدر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بجٹ میں کٹوتی سے امریکہ کی ایئرو اسپیس ڈفینس انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچے گا۔’’اگر بجٹ میں کمی برقرار رہی، تو 2013 اور 2014 میں ہی، بیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری مجموعی قومی پیداوار میں دو تہائی فیصد کی کمی ہو جائے گی۔ یہ بہت بڑا نقصان ہو گا۔‘‘

ریاست ورجینیا کے سینیٹر ٹم کائن اور امریکی کانگریس کے دوسرے ارکان کہہ رہے ہیں کہ بجٹ میں کٹوتی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیئے۔ سینیٹر کائن نے کہا ہے’’ہوائی سفر میں جس چیز سے بھی خلل پڑے، اس سے معیشت میں بھی خلل پڑے گا جب کہ یہ ایسا وقت ہے جب ہمیں اور زیادہ ہیلیئم کی ضرورت ہے، ایسی چیزوں کی ضرورت ہے جن سے معیشت میں تیزی آئی۔‘‘

میری لینڈ کے کانگریس مین جان سربنز کی پریشانی یہ ہے کہ بالٹی مور کی بی ڈبلیو آئی ایئر پورٹ پر ٹریفک کم ہوا تو 94000 لوگوں کی ملازمتوں کا نقصان ہو گا۔ ’’عملے کی کمی کے نتیجے میں آپ کو ایئر پورٹ کی سرگرمیاں کم کرنی پڑیں گی۔ ہر چیز کی رفتار سست ہو جائے گی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہونے لگیں گے، اور پھر علاقے میں کاروبار کی بنیاد متاثر ہونا شروع ہو جائے گی۔‘‘

یہ سب باتیں صحیح ہیں، لیکن ٹرانسپورٹیشن کے عہدے دار کہتے ہیں کہ شہری ہوا بازی کے بجٹ میں کمی سے، زمین پر یا فضا میں، ہوائی جہازوں کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہو گا ۔
XS
SM
MD
LG