رسائی کے لنکس

امریکہ اور چین کا شمالی کوریا پر نئی پابندیوں پر اتفاق


شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان 7 جنوری کو راکٹ خلا میں بھیجے جانے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان 7 جنوری کو راکٹ خلا میں بھیجے جانے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا جب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی واشنگٹن کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے منگل کو وزیر خارجہ جان کیری سے اور بدھ کو قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے ملاقاتیں کیں۔

امریکہ اور چین نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال جوہری اور میزائل تجربات کرنے پر اس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں نے نامہ نگاروں کو پابندیوں کے نئے مسودے کے بارے میں بدھ کو بتایا۔ جمعرات کو اس مسئلے پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند دروازے کے پیچھے اجلاس ہو گا۔

توقع ہے کہ اس اجلاس میں امریکہ اور چین کی طرف سے متفقہ پابندیوں کے مسودے پر بھی بات چیت ہو گی۔

یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا جب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی واشنگٹن کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے منگل کو وزیر خارجہ جان کیری سے اور بدھ کو قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے ملاقاتیں کیں۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ سوزن رائس اور وانگ یی شمالی کوریا کے تجربات پر ایک ’’پرزور اور متحد‘‘ ردعمل پر متفق تھے جس میں سلامتی کونسل کی ایک قرارداد بھی شامل ہے جو اس سے پہلے کی قراردادوں سے زیادہ سخت ہو۔

چین نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات پر تنقید کی ہے مگر ماضی میں وہ اس کے خلاف سخت تادیبی اقدامات کرنے میں اس ڈر سے یچکچاہٹ کا شکار رہا ہے کہ اس سے پیانگ یانگ کی حکومت گر جائے گی جس کے بعد سرحد پار سے چین میں پناہ گزینوں کا سیلاب امڈ آئے گا۔

گزشتہ ہفتے صدر براک اوباما نے ایک بل پر دستخط کیے تھے جس میں امریکہ نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات کے جواب میں اس پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس قانون کے تحت پیانگ یانگ کے جوہری اور میزائل پروگرام میں کسی بھی طرح معاونت کرنے والوں اور سائبر حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر لازمی پابندیاں عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔

توسیع شدہ تعزیرات کا مقصد شمالی کوریا کو چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے اور انہیں ہدف تک پہنچانے والے دور مار میزائلوں کی تیاری کے لیے درکار وسائل پر قدغن لگانا تھا۔

اس قانون کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے لیے شمالی کوریا میں ریڈیو نشریات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی پروگراموں کے لیے پانچ کروڑ ڈالر کی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG