رسائی کے لنکس

امریکہ کی شامی فضائی اڈے میں توسیع کی تصدیق


شمالی شام میں واقع قاملشی ایئر پورٹ کا ایک منظر۔ (فائل فوٹو)

شمالی شام میں واقع قاملشی ایئر پورٹ کا ایک منظر۔ (فائل فوٹو)

یو ایس سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل پیٹ ریڈر نے کہا کہ ’’امریکی فوج نے شام میں اس فضائی اڈے کا کنٹرول نہیں سنبھالا اور اس کے متعلق میڈیا میں آنے والی خبریں درست نہیں۔‘‘

کرد اور امریکی حکام کے مطابق امریکی دستے کی خواہش پر شامی کرد شام کے شمال مشرقی علاقے میں زرعی اراضی پر قائم فضائی اڈے میں توسیع کر رہے ہیں جسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ابو حجر ایئر پورٹ کہلانے والا فضائی اڈہ شمالی شام کے رميلان علاقے میں واقع ہے اور کرد پیپلز ڈیفنس یونٹ اور سیرئین ڈیموکریٹک فورسز اسے کنٹرول کرتی ہیں۔ ان دونوں کے پاس فضائی طاقت نہیں۔

ایک دفاعی عہدیدار نے ’وی او اے‘ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکیوں کی ایک ٹیم نے سیریئین ڈیمو کریٹک فورسز کو ’رن وے‘ میں توسیع کی تجویز پیش کی تھی۔

عہدیدار نے بدھ کو کہا کہ 700 میٹر طویل ’رن وے‘ میں توسیع کر کے اسے 1,300 میٹر کر دیا جائے گا۔

اس توسیع سے نقل و حمل کے طیارے C-130 ’رن وے‘ پر اتر سکیں گے اور داعش کے خلاف لڑنے والی فورسز کے لیے رسد لا سکیں گے۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکیوں نے ’رن وے‘ میں توسیع کی تجویز دی مگر کوئی امریکی اس کام میں مدد نہیں کر ریا۔

سیریئین ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان طلال سائلو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سے قبل اس فضائی اڈے کو علاقے میں زرعی اجناس لانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا مگر اب اسے انسانی امداد اور ممکنہ طور پر فوجی استعمال کے لیے وسیع کیا جا رہا ہے۔

’’اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ایک فوجی اڈہ ہے۔ ہم اسے انسانی اور تعمیر نو کی امداد وصول کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔‘‘

تاہم انہوں نے کہا کہ اس فضائی اڈے کو امریکہ فوجی مقاصد کے لیے ممکنہ طور پر استعمال کر سکتا ہے کیونکہ ’’ہم امریکہ کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔‘‘

تاہم ایک اور امریکہ عہدیدار نے کہا کہ فضائی اڈے میں توسیع ’’امریکی دفاعی کوشش نہیں۔‘‘ یو ایس سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل پیٹ ریڈر نے کہا کہ ’’امریکی فوج نے شام میں اس فضائی اڈے کا کنٹرول نہیں سنبھالا اور اس کے متعلق میڈیا میں آنے والی خبریں درست نہیں۔‘‘

تاہم کرد فورسز کے ترجمان سائلو نے کہا کہ امریکی فوجی ماہرین کرد فورسز کی تربیت کے لیے وہاں آئیں گے۔

’’ان ماہرین کو بہت سے سازوسامان کی ضرورت ہو گی جسے جہازوں کے ذریعے بھیجا جا سکتا ہے۔‘‘

سیٹلائٹ تصاویر اور عینی شاہدین کی بیانات سے پتا چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گلوبل انٹیلی جنس کمپنی سٹارٹ فور کے مطابق 28 دسمبر کو لی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر میں رن وے میں توسیع کے لیے تعمیراتی کام کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایئر بیس کا دورہ کرنے والے وی او اے کے ایک رپورٹر نے دیکھا کہ کرد اور سیریئین ڈیموکریٹک فورسز اس فضائی اڈے کی حفاظت کر رہی ہیں۔ علاقے میں کسی صحافی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔

یہ فضائی اڈہ قامشلی ایئرپورٹ سے 120 کلومیٹر دور واقع ہے جسے شامی حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہاں حکومت کی جنگ میں مدد کرنے والے روسی فوجی طیارے پروازیں کرتے ہیں۔

جب وی او اے نے قاملشی کا دورہ کیا تو اسے وہاں روسی فورسز کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے مگر شامی کردوں کی قومی کونسل کے ایک رہنما فیصل یوسف نے وہاں روسی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور روس شمالی شام میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں جو اس وقت تک جنگ اور داعش کی موجودگی سے پاک رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں بغیر کسی واضح منصوبے کے ملک میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG