رسائی کے لنکس

اس نجی ملاقات سے قبل کی ٹیلی ویژن فٹیج میں مسٹر اوباما اور مسٹر کاسترو کو اجلاس کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے، جن کے ہمراہ اُن کا عملہ اور مترجم موجود ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے ہفتے کو کیوبا کے اپنے ہم منصب، رئول کاسترو سے تاریخی بات چیت کی۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ وہ طویل مدت سے کیوبا کی الگ تھلگ حکومت سے رابطہ قائم کرکے، سرد جنگ کے دور کا ’ورق پلٹنا‘ چاہتے ہیں۔

یہ متوقع ملاقات پاناما میں جاری ’امریکی براعظموں کے سربراہان‘ کے اجلاس سے باہر ہوئی، جو نصف صدی کے دوران دونوں ملکوں کے سربراہان کے مابین پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔

اس نجی ملاقات سے قبل کی ٹیلی ویژن فٹیج میں مسٹر اوباما اور مسٹر کاسترو کو اجلاس کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے، جن کے ہمراہ اُن کا عملہ اور مترجم موجود تھے۔

مسٹر کاسترو نے امریکی صدر کو بتایا کہ وہ کئی ایک متنازع معاملات پر گفتگو کے لیے تیار ہیں، جس میں انسانی حقوق اور آزادی صحافت شامل ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کچھ معاملات پر اب بھی نااتفاقی ہے اور کہا کہ مکمل سفارتی تعلقات بحال ہونے میں وقت لگے گا۔

اپنی جانب سے، مسٹر اوباما نے تسلیم کیا کہ امریکی پالیسیوں کے بارے میں کیوبا اپنی تشویش ظاہر کرتا رہے گا، جس میں اس جزیرہ نما کمیونسٹ ملک کے لیے عشروں سے جاری امریکی معاشی بندش کا معاملہ شامل ہے۔

ایک روز قبل، پاناما سٹی میں متمدن معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے، صدر اوباما نے اس امید کا اظہار کیا کہ کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوششوں سے کیوبا کے عوام کے حالات میں بہتری آئے گی۔

بقول اُن کے، ’جیسا کہ ہم معمول کی طرف بڑھنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہمارے کیوبا کے ساتھ بہت سے امور پر اختلافات (حکومتوں کی سطح پر) ہوں گے۔ جیسا کہ لاطینی امریکہ کے دیگر ملکوں سے بھی ہوتے رہے ہیں یا پھر ہمارے قریبی اتحادیوں کے ساتھ بھی ہو جاتے ہیں۔‘

لیکن، صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ’لاطینی امریکہ میں اپنی مرضی مسلط کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا‘۔

XS
SM
MD
LG