رسائی کے لنکس

جرمنی کی جنوبی ریاست بائرن کی پولیس نے کہا ہے کہ دمیانوک، جو اپنی علالت کے باعث بیڈ فلبیچ قصبے کے ایک نرسنگ ہوم میں زیر علاج تھے، انتقال کرگئے ہیں

دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ایک ڈیتھ کیمپ کے ایک عہدے دار جان دمیانوک، جنہیں گذشتہ سال28 ہزارقیدیوں کےقتل میں مدد دینے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، 91 سال کی عمر میں ہفتے کے روز دنیا سے رخصت ہوگئے۔

جرمنی کی جنوبی ریاست بائرن کی پولیس نے کہا ہے کہ دمیانوک، جو اپنی علالت کے باعث بیڈ فلبیچ قصبے کے ایک نرسنگ ہوم میں زیر علاج تھے، انتقال کرگئے ہیں۔

انہیں گذشتہ سال مئی میں پانچ سال قید کی سزاسنائی گئی تھی لیکن زیر ثانی کی اپیل کے باعث وہ رہائی کی زندگی گذار رہےتھے۔

دمیانوک یوکرین میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے مقدمے کی سماعت میں نازی کیمپ میں بڑے پیمانے پر قتل عام میں اپنے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود نازیوں کا ہدف بنے رہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ 1941ء میں سویت فوجی میں بھرتی ہوئے اور جنگ کے دوران جرمنی کے قیدی بنے۔ جنہیں بعد ازاں قیدیوں کے ایک کیمپ کا محافظ مقرر کردیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دمیانوک نے امریکی شہریت اختیار کرلی اور 2009ء تک کئی عشرے وہ امریکہ میں ایک مکینک کے طورپر کام کرتے رہے۔ بعدازاں انہیں جرمنی میں ایک مقدمے کاسامنا کرنے کے لیے ملک بدر کردیا گیا۔

ان کی سزا نے جرمنی میں ایک نئی قانونی مثال قائم کی ، کیونکہ عدالت نے پہلی بار ایک ایسے شخص کو محض اس بنا پر سزا سنائی کہ وہ ایک کیمپ کا محافظ تھا، اور اس کے خلاف کسی جرم میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔

1988ء میں ایک اسرائیلی عدالت نے انہیں نازی کیمپ کے ایک بدنام زمانہ عہدے دار قراردے کر موت کی سزا سنائی تھی، لیکن بعدازاں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اس بنا پر ان کی سزا ختم کردی کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا کہ یہ وہی عہدے دار تھا جس نے بڑے پیمانے پر قیدیوں کے قتل عام میں حصہ لیا۔

XS
SM
MD
LG