رسائی کے لنکس

یہ معاملہ تہران میں منعقد ہونے والی کُشی کی عالمی چمپئین شپس کا ہی نہیں، جس کے لیے امریکہ اور ایران مدِ مقابل ہیں۔ دراصل، کُشتی کے پہلوانوں اور کوچز کے لیے یہ ایک مشترکہ جدوجہد کا ایک آغاز بھی ہے

امریکہ اور ایران شاذ و نادر ہی کسی بات پر اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن، اِن دِنوں دونوں ممالک کے کھیلوں سے تعلق رکھنے والے اہل کار اس بات کے کوشاں ہیں کہ کُشتی کو بحیثیت اولمپک کھیل کے کس طرح تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ تہران میں منعقد ہونے والی کُشی کی عالمی چمپئین شپس کا ہی نہیں، جس کے لیے امریکہ اور ایران مدِ مقابل ہیں۔

دراصل، یہ مقابلہ محض ایک دوسرے کے خلاف میچ جیتنےکا نہیں ہے۔ کُشتی کے پہلوانوں اور کوچز کے لیے یہ ایک مشترکہ جدوجہد کا ایک آغاز بھی ہے۔

کُشتی کے امریکی پہلوان، رچ بینڈر کے الفاظ میں، ’میں آپ کو 16مئی کو نیو یارک سٹی آنے کی دعوت دیتا ہوں‘۔

محمدعلی آبادی، ایران کی اولمپک کمیٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نیو یارک سٹی ضرور آنا چاہوں گا‘۔

امریکی دعوت کا مقصد ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اس لیے ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے اسی ماہ اعلان کیا ہے کہ 2020ء کے موسم گرما میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں کُشتی کے کھیل کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر ایران کے کُشتی کے کھیل کے شائقین اور امریکہ کے حکام دونوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اِس لیے، عالمی چمپین شپس میں شرکت کے لیے اس ہفتے جب امریکی ٹیم کی تہران پہنچی، مِچ ہل، جو امریکی قومی ریسلنگ ٹیم سے وابستہ ہیں، کا کہنا تھا کہ اس کا واحد حل موجود ہے، اور وہ یہ کہ اس کے لیے مل کر کام کیا جائے۔

اب تک دونوں ممالک کے عہدے دار اور کُشتی کے پہلوان پُرامید دکھائی دیتے ہیں کہ اس طرح کی پارٹنرشپ کی مدد سے اولمپک گیمز میں ریسلنگ کو دوبارہ شامل کرانے میں مدد ملے گی۔
XS
SM
MD
LG