رسائی کے لنکس

وسط مدتی انتخابات، ریپبلیکنز کی برتری کا امکان


فائل

فائل

انتخاب میں ایوان نمائندگان کی تمام نشستیں جب کہ سینیٹ کی ایک تہائی سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ امریکہ کی یہ دو سیاسی جماعتیں اخراجات، ٹیکس نظام اور امی گریشن اصلاحات کی پالیسیوں پر بھی اختلاف رائے رکھتی ہیں

منگل کو امریکہ میں ووٹنگ ہونے والی ہے، جِس کے لیے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایک عشرے کے بعد ریبپلیکنز کو کانگریس میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے، جس صورت میں، ڈیموکریٹ پارٹی کی انتظامیہ کے آخری دو برس کی میعاد کے دوران صدر براک اوباما کے ساتھ نئے سیاسی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔

ری پبلیکنز کو امریکہ میں عام طور پر زیادہ قدامت پسند سیاسی پارٹی خیال کیا جاتا ہے۔ پہلے ہی، 435 رکنی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول اُسے حاصل ہے، اور ممکن ہے کہ اُن کی 233 نشستوں میں مزید اضافہ ہوجائے۔ ریبپلیکنز 100 نشستوں والے سینیٹ کے ایوان میں بھی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں، جہاں اس وقت زیادہ لبرل ڈیموکریٹس کی 55 کی عددی اکثریت ہے۔

انتخاب میں ایوان نمائندگان کی تمام نشستیں جب کہ سینیٹ کی ایک تہائی سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

مسٹر اوباما، جو 2012ء میں اپنے عہدے کی دوسری میعاد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، اُن کا نام تو بیلٹ پیپر پر نہیں ہے، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی پالیسیاں ضرور داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

تاہم، صدر کی مقبولیت کی شرح 40 فی صد کی سطح سے بھی کم ہے، ریپبلیکن امیدوار اُن ریاستوں میں سینیٹ کی کئی سیٹیں لے سکتے ہیں جنھیں دو برس قبل مسٹر اوباما نے کھو دیا تھا، حالانکہ اُنھوں نے قومی سطح پر سبقت حاصل کی تھی۔
اگر کانگریس پر ریپبلیکنز کو کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے، تو قومی سطح پر صحت عامہ کی اصلاحات کی صدر اوباما کی قانونی کامیابی کو بھی خطرہ لاحق ہوجائے گا، جس کے تحت لاکھوں افراد کو انشورنس کوریج ملا جو اس سے پہلے اُن کے بس سے باہر کا معاملہ تھا۔ متعدد ریپبلیکنز کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا عوام کی صحت کی نگہداشت کے معاملے پر حکومت کی انتہائی درجے کی مداخلت کے مترادف تھا، جس قانون کو وہ مسترد کرنے کے حامی ہیں۔

متعدد ریپبلیکنز مسٹر اوباما کی طرف سے ایبولا کے موجودہ بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہیں، وہ کینیڈا سے وسط امریکہ تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کے حق میں ہیں، جب کہ وہ کاروبار پر حکومتی ضابطوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کچھ قانون سازوں نے صدر کی طرف سے یوکرین میں روسی مداخلت کے اقدام سے نبردآزما ہونے اور عراق اور شام میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کی بھی مخالفت کی ہے۔

امریکہ کی یہ دو سیاسی جماعتیں اخراجات، ٹیکس نظام اور امی گریشن اصلاحات کی پالیسیوں پر بھی اختلاف رائے رکھتی ہیں۔

مسٹر اوباما نے عہد کر رکھا ہے کہ اس سال کے اواخر میں تارکین وطن سے متعلق نئے ضابطوں کو رائج کرنے کے لیے انتظامی حکم نامہ جاری کریں گے، جس کا سبب یہ ہے کہ ایوان نمائندگان اِن ضوابط کی منظوری نہیں دے رہا ہے، جن تفصیلی اصلاحات کو سینیٹ پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔ کچھ ریپبلیکنز پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر کی طرف سے ملک کی امی گریشن پالیسیوں پر کسی یکطرفہ اقدام کو روک دیں گے، جن کی رو سے امریکہ میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔

XS
SM
MD
LG