رسائی کے لنکس

جنوبی کوریائی جہاز ڈبونے کا معاملہ بین الاقوامی دہشت گردی نہیں: امریکہ


پی جے کراؤلی

پی جے کراؤلی

امریکی محکمہٴ خارجہ کا کہنا ہےکہ شمالی کوریا کی طرف سے مشتبہ تارپیڈو حملےمیں جنوبی کوریائی بحری جہاز کے ڈبونےکا حالیہ واقعہ بین الاقوامی دہشت گردی کا معاملہ نہیں ہے۔

یہ بات پیر کے روز محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے کہی۔ اُنھوں نےکہا کہ مارچ میں ‘چیونان’ نامی جہاز کو ڈبونے کا واقعہ ایک ریاست کی فوج کا دوسری فوج کے خلاف کی جانے والی ایک کاروائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ کاروائی بذاتِ خود اِس بات کی متقاضی نہیں کہ شمالی کوریا کو پھرسے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں سے متعلق امریکی فہرست میں شامل کیا جائے۔

بین الاقوامی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ شمالی کوریا کی سب میرین نے ایک ٹارپیڈو مار کر چیونان کو ڈبویا، جِس کے باعث جنوبی کوریا کے 46ملاح ہلاک ہوگئے تھے۔ پیانگ یانگ نے اِس واقعے میں ملوث ہونے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی طرح کی مزاحمت کی صورت میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔

سال 2008ء میں امریکہ نے شمالی کوریا کا نام دہشت گردی کی فہرست میں سے ہٹا دیا تھا، تاکہ چھ ممالک کے ساتھ کیے گئے سمجھوتے پر عمل درآمد کرتے ہوئے شمالی کوریا جوہری ہتھیار بنانے کے اپنے پروگرام کوختم کرنے میں پیش رفت کرے۔

چیونان واقعے پر شمالی کوریا کو سزا دینے کی غرض سے کچھ امریکی قانون سازوں نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں تبدیلی لائے۔

کراؤلی نے کہا کہ انتظامیہ مسلسل شمالی کوریا کے رویے کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر اُسے یہ پتا لگے کہ پیانگ یانگ نے دہشت گردی کی کاروائیوں کی حمایت کے اقدام کا اعادہ کیا ہے تو وہ اُس کے خلاف کاروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔

اِس سے قبل پیر کو شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ، اُس کے بقول، امریکہ کی مخاصمانہ پالیسی کے جواب میں وہ ‘نئے بہتر انداز سے’ اپنی جوہری صلاحیت کو فروغ دیگا۔ شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان کی مزید وضاحت نہیں کی ۔

XS
SM
MD
LG