رسائی کے لنکس

امریکی جوہری تنصیبات کو قدرتی آفات سے خطرہ


امریکی جوہری تنصیبات کو قدرتی آفات سے خطرہ

امریکی جوہری تنصیبات کو قدرتی آفات سے خطرہ

نبراسکا میں واقع فورٹ کیلون کا ایٹمی بجلی گھر دریائے میزوری سے آنے والےپانی کی وجہ سے ایک میٹر گہرائی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسے اپریل میں حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ری ایکٹر اور اس کے ایندھن کو ابھی کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ امریکہ کے نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کےصدر کیون کیمپس نے پلانٹ کا دورہ کیا اور بتایا کہ ری ایکٹر کے اندر ونی حصے میں ابھی پانی کا رساؤ نہیں ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ پانی چڑھنے کے بعد ان کے پاس صرف دو میٹر کی گنجائش ہے۔اگر تیز بارش یا طوفان آیا یا حفاظتی بند ٹوٹا توفورٹ کیلون میں تباہی پھیل سکتی ہے۔

یہاں سے جنوب میں ایک سو کلومیٹر دور سیلاب کا پانی ہیم برگ نبراسکاکے کوپر ری ایکٹرکو بھی خطرے میں ڈالے ہوئے ہے۔ یہاں پر بھی حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ کا اونچی جگہ پر ہونا ، تین میٹر دیوار اور ریت کی بوریاں اسے سیلاب سے بچالیں گی ۔

گریگوری کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی طرف سے تمام حفاظتی اقدامات کرنے ہونگے اور امریکہ کے تمام پلانٹ تاریخی طور پر ہی بڑی سیلابی صورتحال کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں ۔

لیکن کیون کیمپس اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہناہے کہ کوپرپاور پلانٹ اپنی آدھی صلاحیت پر کام کر رہا ہے۔ اس پر بھی وہ کہتے ہیں کہ صرف آدھے میٹر کی گنجائش رہ گئی ہے جس کے بعد انہیں حفاظتی قوانین کے تحت یہ پلانٹ بند کرنا پڑے گا۔اگر وہ پوری صلاحیت پر کام کر رہے ہوں اور انہیں یہ بند کرنا پڑے تو اسے ٹھنڈا ہونے میں کئی دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے جنوب مغربی علاقے میٕں تیزی سے پھیلتی ہوئی جنگل کی آگ ریاست ایری زونا کی سرحد پار کر کے نیو میکسیکو میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سے لاس لاموس نامی ایٹمی لیبارٹری کو خطرہ ہے۔ یہ امریکہ کی سب سے بڑی ایٹمی لیبارٹری ہے جہاں پہلا ایٹم بم بنایا گیاتھا ۔ یہ کامپلیکس بند کرنا پڑا ہے

لاس لاموس میں جوہری فضلے کا ایک بڑا ذخیرہ ہے جسے ہزاروں کی تعداد میں لوہے کے ڈرموں میں ڈال کر زمین کے اوپر ان کپڑے کے خیموں میں رکھا گیا ہے۔ ۔کیون کیمپس کہتے ہیں کہ اس پلانٹ کو پہلے بھی آگ کے خطرے کا سامنا ہوا تھا ۔

ان کا کہناہے کہ گیارہ سال پہلے اس پلانٹ میں لگنے والی آگ سے ریاست کنساس، ٹیکساس ، اوکلاہاما اور کولوریڈوکے چند حصے تابکاری سے متاثر ہوئے تھے ۔ وہاں پلوٹونیم بھی خارج ہوا تھا جس کے معمولی مقدار بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے ۔

اب یہ آگ 24س ہزار ایکٹر رقبے پر پھیل چکی ہے۔آگ بجھانے والا عملہ کامیابی کے دعوے تو کررہا ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ ہوا آئندہ کس سمت میں چلنا شروع ہو ، یہ نہیں کہا جا سکتا ۔

پچھلے سال مئی میں امریکہ کے نیوکلیئر ریگولیٹری کمشن نے کہا تھا کہ امریکہ کے 104 ایٹمی ری ایکٹرز میں سے صرف 12 مقامات ایسے ہیں جو ہنگامی حالات کےلیے حفاظتی میعار پرپورے نہیں اترتے ۔مگر پرو پبلیکا نامی ایک غیر منافع بخش تنظیم کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 60 سے 65نیوکلیئر پلانٹس ایسے ہیں جن کے ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والے آلات تسلی بخش نہیں ہیں ۔

XS
SM
MD
LG