رسائی کے لنکس

پاکستان اور امریکہ سے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے اہم افراد، نیوز میڈیا اور ثقافتی اداروں سے منسلک افراد کے ایک متنوع گروپ کی میڈیا اور ثقافتی امور پر دو روزہ کانفرنس منگل کو واشنگٹن میں اختتام پذیر ہوئی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے کئی اعلٰی اہلکاروں سمیت پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی مندوب مارک گروسمین بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔

یہ کانفرنس پاک امریکہ لیڈرشپ فورم کے تحت منعقد کرائی گئی تھی جس کا مقصد پاکستان اور امریکہ میں عوامی اور غیر سرکاری رابطوں کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات جاوید جبّار کے مطابق ایسے وقت جب دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی ہے، ایسے افراد کا ملنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مل بیٹھنے سے جو بیش بہا تجاویز سامنے آتی ہیں ان میں سے چند پر بھی عمل ہو جائے تو کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔

پاک امریکہ لیڈرشپ فورم کے اہم رکن ڈیوڈ فئیرمین نے اس کانفرنس کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نیوز آرگنائزیشنز کے لیے محتسب مقرر کرنے سے لے کر ایک سال پر محیط ایسا آرٹس فیسٹیول کروانے تک، جس میں پاکستانی اور امریکی فنکار مل کر کام کریں، بہت سی تجاویز سامنے آئیں اور ہمارے خیال میں اس غیر سرکاری کوشش کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

اس کانفرنس کی ایک اہم بات یہ تھی کہ اجلاسوں میں ہونے والی تمام بات چیت آف دی ریکارڈ تھی۔ یعنی میڈیا کو اس بات چیت کو رپورٹ کرنے کی اجاز ت نہیں تھی۔ جس کی وجہ سے بقول جاوید جبّار بہت کھل کر بات ہوئی۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب تک پاکستان اور امریکہ کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات استوار نہیں کیے جاتے، حکومتی سطح پر مشکلات برقرار رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG