رسائی کے لنکس

پاکستان نے فاضل فوجی سامان کی درخواست کی: امریکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اگر پاکستان کی یہ درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو یہ فاضل سازو سامان افغانستان سے باہر امریکی عسکری سامان کے ذخیرے سے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ کے سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے امریکہ سے فاضل دفاعی سازو سامان حاصل کرنے کی درخواست کی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔

پیر کو سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر پاکستان کی یہ درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو یہ فاضل سازو سامان افغانستان سے باہر امریکی عسکری سامان کے ذخیرے سے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسا عسکری ساز و سامان جسے فاضل قرار دے دیا گیا ہو، وہ عالمی ’ایکس ڈیفنس پروگرام‘ کے تحت تمام اہل ممالک بشمول پاکستان اور افغانستان کو دستیاب ہو سکے گا۔

سفارت خانے سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سامان فراہم کرنے سے قبل مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے، جن میں عسکری ساز و سامان میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کی ضروریات اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کے علاوہ اس بات کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے کہ جس ملک کو یہ سامان دیا جا رہا ہے وہ کس طرح اس کے استعمال کا ارادہ رکھتا ہے اور کیسے اس کی دیکھ بھال کر سکے گا۔

دفاعی اُمور کے ماہر ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ شہزاد چوہدری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کا فیصلہ تو واشنگٹن ہی کرے گا کہ کس کو یہ سامان دیا جائے۔

’’یہ جو سامان ہو گا وہ تکنیکی طور پر کوئی غیر معمولی سامان نہیں ہو گا اور یہ بنیادی چیزیں ہیں جیسے بکتر بند گاڑیاں… یہ بھی یا د رکھیں کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سامان واپس لے جانا فضول ہے اور جتنا خرچہ آئے گا اتنی اس کی قیمت نہیں ہے۔‘‘

اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوج نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے اپنا زائد فوجی سازو سامان پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں امریکہ کے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پینٹاگون پاکستان کو 7 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سامان، جس میں بکتر بند گاڑیا ں بھی شامل ہیں، دے سکتا ہے۔ کیوں کہ افغانستان سے انخلا سے قبل امریکہ عسکری سامان ٹھکانے لگانا چاہتا ہے۔

امریکہ کے عسکری عہدیداروں کے مطابق گزشتہ 12 سال کے دوران افغانستان کی نیشنل سیکورٹی فورسز کو 53 ارب ڈالر کی امداد اور سامان دیا چکا ہے، جس میں 160 طیارے، ایک لاکھ گاڑیاں، پانچ لاکھ ہتھیار اور دو لاکھ مواصلاتی و رات کی تاریکی میں کام آنے والے آلات شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG