رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: زرداری، موہن ملاقات

  • صلاح احمد

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرنااور خود آصف علی زرداری کا چار سال قبل عہدہ سنبھالنےکے بعد ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ، جوہری ہتھیاروں سے لیس اِن دو پڑوسی ملکوں کے مابین لہجے میں ایک تبدیلی کی غمّازی کرتا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ایک روزہ دورہء بھارت اور وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ نئی دلی میں ان کے غیر رسمی مذاکرات پر انٹر نیشنل ہیرلڈ ٹریبیون کہتا ہے کہ یہ ملاقات باضابطہ نوعیت کی نہیں تھی لیکن اس کے اختتا م پر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ بھی پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے وقت نکالیں گے ۔ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اُن کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔

نئی دہلی کی اس ملاقات میں دونوں لیڈروں نےکشمیر کے متنازعہ خطے سمیت بہت سے امُور پر گفتگو کی ۔ اس میں بقول اخبار کے پاکستانی عسکریت پسند حافظ سعید کی ذات بھی زیر بحث آئی۔ جن پر یہ الزام ہے کہ سنہ 2008 میں مُمبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کرانا انہیں کی کارستانی تھی۔ ان حملوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین گرم جوشی کے عمل میں تعطل پیدا ہو گیا تھا

دونوں لیڈروں نے باہمی تجارتی مراسم کو وسعت دینے اور ویزے جاری کرنے میں نرمی برتنے کے حق میں آواز بُلند کی ۔ تاکہ دونوں ملک کے لوگ آسانی سے ایک دوسرے کے ملک آ جا سکیں، اب سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کتنی جلد پاکستان کا دورہ کر سکیں گے۔ بہت سے تجزیہ کار ان کے ا یسے دورے کو کسی بھی بڑی سفارتی پیش رفت کے لئے اہم سمجھتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے ، کہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لئے پاک ہند تعلقات کی کلیدی اہمیت ہے ۔ اور دونو ں نومبر 2008 کے ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کےبعد سفارتی پیش رفت کے لئے مقدور بھر کوششیں کرتے آئے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم 163 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ جس کے بعد ہندوستان نے مذاکرات معطل کر دئے تھے اور اتنے سال گزرنے کے بعد ہندوستان کو اعتبار نہیں ہے کہ پاکستان اس مقدمے کومنطقی انجام تک پہنچانے میں مخلص ہے۔ ہندوستان کے سیکیورٹی کے عہدہ داروں کو خاص طور پر حافظ سعید کے خلاف کاروائی پر اصرار ہے۔ جنہیں وہ یہ حملے کرانے والی تنظیم لشکر طیبہ کا راہنما سمجھتے ہیں۔ ہندوستانی سیکرٹری خارجہ کے بقول اتوار کی میٹنگ میں حافظ سعید کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ اور یہ کہ مسٹر زرداری نے کہا ہے کہ اس پر مزید بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون نے بعض تجزیہ کاروں کے حوالے بتایا ہے کہ اگر پاکستان نےحافظ سعید کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی ۔ تو اُس صورت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کے لئے پاکستان کے دورے پر جانے کے لئےضروری سیاسی حمائت حاصل کرنا محلّ نظر ہے

اسی موضوع پر وال سٹریٹ جرنل کہتا ہے۔ کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرنااور خود آصف علی زرداری کا چار سال قبل عہدہ سنبھالنےکے بعد ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ، جوہری ہتھیاروں سے لیس اِن دو پڑوسی ملکوں کے مابین لہجے میں ایک تبدیلی کی غمّازی کرتا ہے۔ اور حالات کو معمول کی طرف لانے کے اُن چھوٹے چھوٹے قدموں کی تازہ تریں کڑی ہے جو 2008 ءکے اس واقعے کے بعد اُٹھائے گئے ہیں۔ جب دس پاکستانی اسلحہ برداروں نے ممبئی پر دھاوا بول دیا اور چھ امریکیوں سمیت 160 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر کے چار سال سے جاری امن کی تعمیر کی کاوش کو ایک ہی جھٹکے میں خاک میں ملا دیا تھا ۔ امریکہ اور بھارت دونوں نے اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں ۔ کہ پاکستان نے اب تک حافظ سعید کو حراست میں نہیں لیا۔

چین کے سیکیورٹی کے عہدہ داروں نے ایک عسکریت پسند تنظیم کے چھ ارکا ن کے نام جاری کئے ہیں ۔ جو ایک جنوبی ایشیائی ملک کی سرزمیں کومغربی چین کے خطّے زن جیانگ پر حملے کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اشارہ پاکستان کی طرف ہے اخبار نے اسلام آباد میں قائم پاک اسٹیٹیوٹ فار پِیس سٹڈیذ کے ڈئرکٹر امیر رانا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ مشرقی ترکستانی دہشت گرد تنظیم شمالی وزیرستان کے تلاطم خیز قبائیلی علاقے میں 2005 سے سرگرم عمل ہے ۔ اور یہ کہ اس کے لیڈر عبدالشکور ترکستانی کے بارے میں مشہور کیا گیا تھا کہ مئی میں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اُسی کو قیادت سونپی جائے گی

مسٹر رانا کہتے ہیں ۔کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم کا ان علاقوں میں بڑا موثّر نیٹ ورک ہے۔ ترکستانی2010 سے اس قبائلی علاقے میں چینی لشکریوں کی قیادت کرتا آیا ہے۔لیکن مئی2011 میں اُس کا پیشرو عبدالحق الترکستانی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا جس کے بعد القاعدہ نے اعلان کیا کہ عبدالشکور ترکستانی قبائلی علاقوں میں جنگجووں کی قیادت کرے گا اور انہیں تربیت بھی دےگا

چین نے اب تک پاکستان کی سرزمین سے سر اُٹھانے والی دہشت گردی پر اپنے تبصرے کو اب تک صرف عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی کاوش کی تعریف تک محدود رکھی ہے۔ لیکن ، جنوبی زن جیانگ میں کاشغر کے حُکأم نے الزام لگایا ہے کہ اس علاقے پر حملہ کرنے والے ایک جتھے کے لیڈر نے پاکستان کے قبائلی علاقے سے تربیت حاصل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG