رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: گوانتانامو کے قیدیوں کے حقوق

  • عمیر ریاض

'لاس اینجلس ٹائمز' لکھتا ہے کہ صدر اوباما نے امریکی عوام سے گوانتانامو کا حراستی مرکز بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کا یہ وعدہ تین برس گزرنے کے باوجود وفا نہیں ہوا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی سے انکار کردیا ہے جس کے تحت گوانتا نامو کے حراستی مرکز میں موجود غیر ملکی قیدیوں کے بنیادی قانونی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں۔

اخبار 'لاس اینجلس ٹائمز' نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ دے کر اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی ہے۔

اپنے ایک اداریے میں اخبار نے لکھا ہے کہ چار سال قبل خود سپریم کورٹ کے ججوں نے فیصلہ دیا تھا کہ کانگریس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو اپنی حراست کے خلاف امریکی عدالتوں سے رجوع کرنے کے حق سے محروم کرے۔

لیکن اخبار کے مطابق اب خود سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر نظر ثانی سے انکار کرکے اپنی ذمہ داری سے روگردانی کی ہے جس کے تحت ایک ماتحت عدالت نے سپریم کورٹ کے 2008ء کے فیصلے کے ذریعے قیدیوں کو دیے گئے حقوق محدود کردیے ہیں۔

'لاس اینجلس ٹائمز' لکھتا ہے کہ صدر اوباما نے امریکی عوام سے گوانتانامو کا حراستی مرکز بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کا یہ وعدہ تین برس گزرنے کے باوجود وفا نہیں ہوا ہے۔

گوکہ حراستی مرکز میں اب صرف 170 قیدی رہ گئے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کے خلاف ایک دہائی گزرنے کے باوجود نہ کوئی قانونی کاروائی ہوئی ہے اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی بنیاد پر انہیں کسی عدالت نے سزا سنائی ہے۔

'لاس اینجلس ٹائمز' لکھتا ہے کہ 2004ء میں امریکی سپریم کورٹ نے کانگریس اور وہائٹ ہاؤس کو حکم دیا تھا کہ گوانتانامو میں موجود امریکی اور غیر ملکی قیدیوں کو یکساں قانونی حقوق دیے جائیں لیکن اس ضمن میں بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں، اخبار کے الفاظ میں، یہ قیدی انصاف سے محروم کردیے گئے ہیں اور اس کی وجہ سے امریکہ دنیا بھر میں شرمندگی اٹھا رہا ہے۔

'لاس اینجلس ٹائمز' لکھتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے گوانتانامو کے 40 سے زائد قیدیوں کو یہ کہہ کر ان کے بنیادی قانونی حقوق سے محروم کردیا ہے کہ یہ قیدی اتنے خطرناک ہیں کہ ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں بھی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔

اخبار لکھتا ہے کہ ان قیدیوں کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا واحد راستہ یہ بچا تھا کہ وہ اپنی حراست کو کسی امریکی عدالت میں چیلنج کردیں۔ لیکن ماتحت عدالت کے فیصلے نے قیدیوں سے ان کا یہ حق بھی چھین لیا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی قیدیوں کی اس حق تلفی کو تسلیم کرلیا ہے۔

اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنے ایک مضمون میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے جوہری تنازع پر آئندہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے عالمی مذاکرات میں تنازع کے حل کی جانب پیش رفت متوقع ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے مذاکرات قیاس آرائیوں اور توقعات کی زد میں رہے ہیں ۔ فریقین کے درمیان اپریل میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امیدوں کا جو طوفان اٹھا تھا اس میں گزشتہ ماہ بغداد کے اجلاس کے بعد کچھ کمی آئی ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ بغداد اجلاس اور اس کے بعد کے ایرانی رویے کو دیکھتے ہوئے بعض حلقے یہ کہہ رہے تھے کہ آئندہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے اجلاس کے بعد یہ مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

لیکن جوہری معاملات سے متعلق ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کے اس بیان کے بعد مذاکرات میں پیش رفت کی امید پھر بحال ہوگئی ہے کہ ایران اپنی یورینیم مزید افزودگی کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کی تجویز پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اخبار کے مطابق ایران کی اس آمادگی کے پیچھے درحقیقت تہران پر عائد ان اقتصادی پابندیوں کا دباؤ کارفرما ہے جنہوں نے ایرانی معیشت کو بری طرح متاثرکیا ہے اور ان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت آرہی ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی تہران حکومت کو پریشان کر رہی ہے۔ جب کہ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے 'سائبر حملوں' نے بھی تہران کو مذاکرات کی میز پر آنے پہ مجبور کیا ہے۔

اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے اپنے ایک اداریے میں 'انٹرنیشنل کرمنل کورٹ' کے ان چار اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں لیبیا میں ایک قبائلی لشکر نے گزشتہ ہفتے اغوا کرلیا تھا۔

اخبار کے مطابق عالمی عدالت سے منسلک چاروں اہلکاروں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی سے ملاقات کر رہے تھے۔

سیف الاسلام قذافی کو گزشتہ برس نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ آٹھ ماہ سے ایک نجی ملیشیا کی تحویل میں ہیں۔

عالمی عدالت سیف الاسلام کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ چلانا چاہتی ہے اور اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے گئے چاروں اہلکار سیف الاسلام کو مقدمے کی تیاری اور وکلائے صفائی کے انتخاب میں مدد فراہم کرنے کے لیے لیبیا پہنچے تھے۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ تازہ ترین واقعے کے نتیجے میں لیبیا میں جاری ابتری نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اخبار کے مطابق لیبیا میں بااثر مقامی لشکروں کے مابین محاذ آرائی جاری ہے ، قذافی کے حامیوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے اور غیر ملکی صحافیوں اور سرکاری حکام کے اغوا کی وارداتیں عروج پر ہیں۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ امریکہ اور یورپ نے لیبیا میں فوجی مداخلت کرکے مقامی باشندوں کو یہ موقع فراہم کیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں ایک آزاد اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کریں لیکن اب تک ایسا نہیں ہوپایا ہے۔ اخبار نے لیبیا کے عوام اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور ملک میں قانون کی بالادستی کو ممکن بنائیں۔

XS
SM
MD
LG