رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: خفیہ سرکاری معلومات کا افشا

  • عمیر ریاض

امریکی محکمہ انصاف ان معلومات کے اجرا کی تحقیقات شروع کرچکا ہے لیکن کئی اراکینِ کانگریس اس سے مطمئن نہیں اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں

اخبار'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنے ایک اداریے میں سیاسی مفادات کے حصول کے لیے قومی سلامتی سے متعلق خفیہ سرکاری معلومات کے افشا پر تنقید کی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ ذرائع ابلاغ کےنمائندوں کو ان معلومات کی فراہمی میں وہائٹ ہاؤس کےاعلیٰ اہلکار ملوث ہیں جن کی اس حرکت کے پیچھےبظاہر سیاسی مقاصد کارفرما تھے۔

امریکی محکمہ انصاف ان معلومات کےاجرا کی تحقیقات شروع کرچکا ہے، لیکن کئی اراکینِ کانگریس اس سے مطمئن نہیں اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یہ خفیہ معلومات ایران کے جوہری پروگرام پرامریکہ کے سائبرحملوں اور'القاعدہ' میں سرگرم امریکہ کے ایک ڈبل ایجنٹ کے متعلق تھیں جنہیں حال ہی میں مختلف امریکی اخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ چاہے اس معاملے کی تحقیقات محکمہ انصاف کرے یا کوئی آزاد تفتیش کار، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور بہتر یہی ہے کہ اس معاملہ کو اب مزید نہ چھیڑا جائے۔

اخبار لکھتا ہے کہ صرف اوباما انتظامیہ گزشتہ برسوں میں حساس سرکاری معلومات کے افشا کے چھ مختلف واقعات کی تحقیقات کراچکی ہے لیکن ان میں سے کسی ایک کا بھی کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔

'واشنگٹن پوسٹ' کےمطابق ان تحقیقات کے بے نتیجہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خفیہ معلومات کا اِفشا ذاتِ خود کوئی جرم نہیں تاوقتیکہ یہ ثابت ہوجائے کہ اس کا مقصد امریکہ کی سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا جس میں استغاثہ بیشتر اوقات ناکام رہتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ حالیہ انکشافات پر تحقیقات نہیں بلکہ بحث مباحثے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی افادیت اور قانونی جواز کا تعین کیا جاسکے۔

اخبار 'بوسٹن گلوب' نے اپنے ایک اداریے میں امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ روس پر شامی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے سے باز رکھنے کے لیے دبائو ڈالے۔

اخبار لکھتا ہے کہ روس کی جانب سے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کو ہیلی کاپٹر دینے کے فیصلہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شام کے شدید ہوتے بحران کے حل میں مخلص نہیں۔

'بوسٹن گلوب' کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن، جو خود بھی اپنے ملک میں احتجاجی مظاہرین کو کچل رہے ہیں، بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ اسد حکومت ان ہیلی کاپٹروں کو اپنےعوام کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرے گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکی حکومت کو روس کو یہ بتادینا چاہیے کہ اگر اس نے شامی حکومت کو اسلحے کی فروخت بند نہ کی تو دیگر ممالک بھی شامی حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجووں کو کھل کراسلحہ فراہم کریں گے۔

'بوسٹن گلوب' لکھتا ہے کہ اوباما انتظامیہ اورعرب لیگ کو روس پر واضح کردینا چاہیے کہ اب اس کی اور اسد حکومت کی ملی بھگت ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔ اخبار کےمطابق روس کو یہ پیغام دینے کا موثر طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے مرحلے میں امریکیوں کو ان روسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے روک دیا جائے جو شامی حکومت کے ساتھ لین دین میں مصروف ہیں۔

اخبار'یو ایس اے ٹوڈے' میں امریکہ میں بزرگ شہریوں کے ساتھ ہونے والے نامناسب سلوک پر ایک مضمون شائع ہوا ہے۔

مضمون کے مطابق امریکہ میں ہر روز 10 ہزار افراد اپنی 65 ویں سال گرہ مناتے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق 2010ء سے 2030ء کے دوران 65 سال یا اس سے زائد عمر کے امریکیوں کی تعداد دگنی ہونے کی توقع ہے جب کہ امریکی معاشرے میں 85 برس سے زائد عمر کے افراد کی تعدا دمیں 2050 تک 400 فی صد اضافہ متوقع ہے۔

'یو ایس اے ٹوڈے' لکھتا ہے کہ ہر دس میں سے ایک امریکی بزرگ ہر سال کسی نہ کسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے یا کسی کے ظلم کا نشانہ بنتا ہے۔ کبھی کوئی بزرگ خاتون اپنی کرسی سے بندھی ملتی ہے تو کبھی کسی ناخلف اولاد کی جانب سے اپنے بوڑھے والدین پر تشدد کا کوئی واقعہ سامنے آجاتا ہے۔ یا کبھی کوئی نوسر باز کسی بزرگ جوڑے سے اس کی عمر بھر کی جمع پونجی اڑا لے جاتا ہے۔

'یو ایس اے ٹوڈے' لکھتا ہے کہ امریکی معاشرے میں اس نوعیت کے واقعات بہت عام ہوچکے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ان کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا جاتا۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے 24 واقعات میں سے صرف ایک حکام کو رپورٹ ہوپا تا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکی معاشرہ تیزی سے بوڑھا ہورہا ہے جس کے ساتھ ہی یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اخبار نے اس مسئلہ پر امریکی معاشرے میں قومی سطح پر بحث کے آغاز کی تجویز دی ہے تاکہ ان بزرگ شہریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سدِ باب ہوسکے۔

'یو ایس اے ٹوڈے' کے مطابق ان بزرگ امریکیوں نے اپنی جوانی میں امریکی قوم کی بڑی خدمت کی ہوتی ہے لہذا پورے امریکی معاشرے کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے بڑھاپے کا امن، سکون اور آرام ہر صورت یقینی بنائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG