رسائی کے لنکس

امریکی رکن کانگریس کیتھ اے لی سن نے کہا ہے کہ جب مزید ڈرون حملے ہونگے تو بعض سوال اُٹھانا ضروری ہو جائے گا، مثلاً، جِن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اُن میں سے کتنے دہشت گرد تھے۔ کیا کوئی بچے اِن کی زد میں تو نہیں آئے؟

ایک امریکی رکن کانگریس نے بہتر ڈرون پالیسی مرتّب کرنے پر زور دیا ہے۔ ’ واشنگٹن پوسٹ‘ میں ایک تفصیلی مضمون میں مناسوٹا کے نمائندے کیتھ اے لی سن کہتے ہیں کہ اطلاعات کےمطابق، ایک امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کے قبائیلی علاقے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے، اور اِس طرح، رواں سال میں پاکستان میں ایسے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں جب مزید ڈرون حملے ہونگے تو بعض سوال اُٹھانا ضروری ہو جائے گا۔ مثلاً، جِن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اُن میں سے کتنے دہشت گرد تھے۔ کیا کوئی بچے ان کی زد میں تو نہیں آئے ۔ اور یہ کہ اس قسم کے حملے جائز قرار دینے کے لئے کس قسم کی شہادت صائب مانی جائے گی۔ اور وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو اس کاجوب دینا ہوگا اور امریکی کانکریس کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

اےلی سن کے خیال میں اس مسئلے کی تہ میں اصل بات یہ ہے کہ ہماری فنیاتی صلاحیت ہماری پالیسی کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سمندر پار ملکوں میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے کرنے کا یک طرفہ اختیار امریکی عاملہ کے پاس ہے۔ بعض صورتوں میں ہر حملے کی منظوری صدر اوبامہ خود دیتے ہیں۔ اور اگرچہ صدر اوبامہ اس بات کے لئے تعریف کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے ڈرون طیاروں کے استعمال کے بارے میں واضح قواعد وضع کئے ہیں۔

لیکن، وہ کہتے ہیں، کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ یک طرفہ طور پر یہ فہرست بنانا کہ کس کس کو ہلاک کرنا ہے، نہ صرف ایک غیر مناسب بات ہے، بلکہ اس میں خطرے بھی پوشیدہ ہیں۔ اور جیسا کہ صدر اوبامہ ایک ٹی وی انٹرویو میں خود کہہ چکے ہیں، اس میں کانگریس کی امداد کی ضرورت ہے، اور صدر کے ایسے اقدامات کو کانگریس کے قواعد کے تابع کر دینا چاہئے۔ چُنانچہ، اس پر عمل درآمد کا وقت آگیا ہے۔

ہتھیار بند ڈرون طیاروں کی افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے، اِس رکن کانگریس نے کہا ہے کہ ان کی مدد سے القاعدہ کے 30 چیدہ لیڈروں میں سے 22 کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ اور اس طرح امریکی فوجوں کو خطرے میں ڈالنے کی نوبت نہیں آئی۔

اس کے باوجود کانگریس مین کا کہنا ہے کہ ڈرون طیاروں سے حملے کرنے پر آنے والی لاگت کو یا تو نظرانداز کیا گیا ہے یا اس کا پورے طور پر اعتراف نہیں کیا گیا ہے۔

سٹین فورڈ لاٴ سکول اور نیو یارک یونی ورسٹی کا تخمینہ ہے کہ امریکی حکومت کی اطلاع کے برعکس، ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، یعنی سنہ 2004 کے بعد سے لگ بھگ 700 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سےتقریباً 200 بچے تھے، جو اُن کے نزدیک، ناقابل قبول بات ہے۔

چنانچہ، اُن کا اصرار ہےکہ کانگریس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وُہ اس کی نگرانی کرے اور اتنی تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے متعلّق پالیسی وضع کرے اور بے گُناہ شہریوں کی ہلاکت کو روکے۔

وہ کہتے ہیں، کہ امریکہ کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر قانونی ضابطے وضع کرنے چاہیئں۔

مسٹر اے لی سن کہتے ہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی پر ہمیشہ امریکہ کی اجارہ داری نہیں رہے گی، ایرانی ساخت کا جو ڈرون طیارہ حزب اللہ نے اسرائیل کے اُوپر اُڑایا تھا، اُس کے پیش نظر ان کے استعمال کا ایک ایسا پراٹوکول وضع کرنا ضروری ہے جسے بین الاقوامی قبولیت حاصل ہو۔

جوہری ہتھیاروں کی ضرورت کے مفروضے کے عنوان سے وارڈ وِلسن ’نیو یارک ٹائمز‘ میں ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ اس سلسلے کا پہلا مفروضہ یہ ہے کہ اِن کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ رُخ بدل گیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کے امریکی فیصلے کے اخلاقی پہلو سے قطع نظر تاریخ دانوں کی تحقیق سے اب یہ بات پایہٴ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جاپان نے ایٹم بم کی وجہ سے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ اس وجہ سے کہ سوئیت یونین نے غیر جانبداری کو خیر باد کہہ کر جنگ میں کُودنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور روائیتی ہتھیاروں کی مدد سے 66 جاپانی شہر پہلے ہی تباہ و برباد ہو چُکے تھے۔ مزید دو شہروں کے اضافے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ جاپانی لیڈروں نےبھی سُبکی سے بچنے کے لئےاپنی شکست کے لئے اسی معجزاتی ہتھیار کو ذمّہ دار ٹھیرایا۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ جوہری بم ڈر کی پیداوار ہیں اور ڈر ہی کی وجہ سے ابھی تک باقی ہیں۔ آج کل کے جنگ و جدال میں زور چھوٹے اور زیادہ موثّر ہتھیاوں پر ہے، جب کہ ایٹم بم ایک تو نہائت ہی خطرناک ہیں اور دوسرے زیادہ مُفید بھی نہیں۔ بلکہ، ماضی کی ایک یادگار ہیں۔

دوسرا مفروضہ مکمّل تباہی کا ہے۔ وسیع تباہی کی بدولت جنگ نہیں جیتی جاتی ، بلکہ فوجیوں کو مارنے سے جیتی جاتی ہے، زیادہ تباہ کن ہتھیار بنانے سے جنگ کی ہولناکیاں ضرور بڑھ جاتی ہیں۔ تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیار پر دُشمن کوباز رکھنے کا قابل اعتبار ہتھیار ہے۔۔سنہ 1962 میں صدر کینیڈی نے جوہری جنگ کے خطرے کے باوجود کُیوبا کے ناکہ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔

چوتھا مفروضہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیار کے ہوتے ہوئےامن کا طویل عرصہ ممکن ہوا ہے اور
اس ہتھیار کی بساط نہیں لپیٹی جا سکتی۔

اس دلیل کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے، مضمون نگار کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ آیا جوہری بم کی ایجادکی نفی ممکن ہے اور آیا یہ بم مفید ثابت ہوئے ہیں۔

اِن ہتھیاروں کی افادیت اس حقیقت کے پیش نظر مشکُوک ہے کہ پچھلے 67 برس میں کسی کو اُنہیں استعمال کرنے کا موقع میسّر نہیں آیا ہے۔ پھر، ہر شخص ایٹم بم حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ اکثر لوگوں کو شائد اس کا اندازہ نہیں کہ بارہ ایسے مُلک ہیں جنہوں نے یا تو اپنے جوہری پروگرام ترک کر دئے ہیں یا موجودہ ہتھیاروں کو ناکارہ بنا دیا ہے یا پھر کسی اور کے حوالے کردیا ہے۔

اس وقت جن ملکوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں وہ ہیں امریکہ، روس، برطانیہ۔ فرانس، چین، اسرائیل، پاکستان، بھارت اور شمالی کوریا۔
XS
SM
MD
LG