رسائی کے لنکس

امریکی وزیر خارجہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے


چین اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی بیجنگ میں ملاقات

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اپنے دورہ ایشیا کے آخری مرحلے میں ہفتہ کو چین پہنچے جہاں وہ دوطرفہ امور سمیت خاص طور پر شمالی کوریا سے متعلق معاملات پر بات چیت کریں گے۔

ٹلرسن نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی نے ملاقات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ "باہمی دلچسپی کے مختلف امور سے متعلق بہت سے مواقع ہیں جنہیں تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن دو طرفہ تعاون کو بڑھانے سمیت باہمی اختلافی امور پر بھی بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

دورہ چین کے دوران ٹلرسن اتوار کو صدر شی جنپنگ سے بھی ملاقات کریں گے اور توقع ہے کہ چینی عہدیداروں سے ہونے والی بات چیت میں بعض تلخ امور بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ٹلرسن نے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو فروغ دے۔

جمعہ کو ہی جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا سے متعلق "صبر" کی پالیسی ختم ہو گئی ہے اور پیانگ یانگ کے خلاف فوجی کارروائی "ایک راستہ ہے جس پر بات ہو سکتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "شمالی کوریا کو یہ سمجھنا ہو گا ایک محفوظ، معاشی طور پر خوشحال مستقبل کے لیے اسے اپنے جوہری ہتھیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور دیگر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنا ہو گا۔"

اپنے دورہ ایشیا کے پہلے مرحلے میں ٹلرسن جمعرات کو جاپان پہنچے تھے جہاں ٹوکیو میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی گزشتہ 20 سالوں میں کی گئی ناکام کوششوں کے بعد "یہ واضح ہے کہ اب ایک مختلف نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے دورے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین سے اس بابت تبادلہ خیال کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG