رسائی کے لنکس

شام میں امن مذاکرات کی بحالی ممکن: اینٹونی بلنکن


شام کے شہر حمص میں جنگ سے تباہ حال ایک عمارت۔ فائل فوٹو

شام کے شہر حمص میں جنگ سے تباہ حال ایک عمارت۔ فائل فوٹو

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے مطابق جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے مانیٹر تشدد اور حملوں کی تعداد میں کمی دیکھ رہے ہیں۔

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق معاہدوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس سے انہیں امید ہے کہ سیاسی مذاکرات کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے شام میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

اینٹونی بلنکن نے کہا کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے امریکہ روس اور دیگر ممالک کے ساتھ متوازی سیاسی مذاکرات پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ میں شریک دھڑوں کی جنگ بندی پر عملدرآمد کی نگرانی کے متعلق پیش رفت ہو رہی ہے۔

اینٹونی بلنکن کے مطابق جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے مانیٹر تشدد اور حملوں کی تعداد میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک، ادویات اور دیگر قسم کی امداد سے کئی ماہ سے محروم ہزاروں شامیوں کی مدد کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔

بلنکن نے شمالی کوریا پر بھی یہ کہنے پر تنقید کی کہ وہ اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے کسی بھی اجلاس کا بائیکاٹ کر دے گا۔

شمالی کوریا امریکہ پر نسل پرست ہونے کا الزام عائد کرتا ہے جہاں ہر سال اسلحے سے ہونے والے تشدد سے 13,000 سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بلنکن نے اس کے جواب میں کہا کہ شمالی کوریا کے برعکس جب امریکہ میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو اس کی میڈیا میں تشہیر ہوتی ہے، اس پر بحث کی جاتی ہے اور اسے حل کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG