رسائی کے لنکس

امریکی قانون سازوں کو شمالی کوریا کے خطرے سے متعلق اہم بریفنگ


امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس (بائیں) اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ قانون سازوں کے بریفنگ دینے کے بعد واپس آتے ہوئے۔

امریکہ کی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ممبران کو بدھ کو انتطامیہ کی طرف سے شمالی کوریا سے متعلق غیرمعمولی بریفنگ دی گئی۔

جن ارکان نے اس بریفنگ میں شرکت کی انہیں شمالی کوریا کی طرف سے درپیش خطرے کو ختم کرنے کی حکمت عملی کے مختلف طریقوں سے متعلق سوال پوچھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ اس موقع پر ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسے کم جونگ ان کی طرف سے درپیش انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا۔

سینیٹ کے تمام سو ارکان اس مقصد کے لیے وائٹ ہاؤس سے متصل ایگزیکٹو عمارت کے آڈیٹوریم میں دوپہر کو جمع ہوئے جہاں وزیر دفاع جم میٹس، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈان کوٹس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ نے بریفنگ دی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر تھوڑی دیر کے لیے یہاں موجود رہے اور انہوں نے اسے ایک "اہم موقع " قرار دیا۔

سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کے رکن ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے بعد ازاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ "یہ ایک اہم بریفنگ تھی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ۔۔۔ اگر فوجی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پڑی تو اس کی منصوبہ بندی کے لیے کتنی سوچ بچار کی گئی۔"

اس سے قبل وزیر خارجہ ٹلرسن اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈان کوٹس کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کو روکنے کے لیے سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو "ہم اپنا اور اپنے اتحادیوں کو دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

سینیٹ میں ریپبلکن راہنما مچ میکونل نے کہا کہ شمالی کوریا کے رویے کے باعث انہوں نے صدر سے پوری سینیٹ کو بریفنگ دینے کے لیے کہا تھا۔

میکونل نے سینیٹ میں کہا کہ "(انہوں نے) یہ واضح کر دیا ہے کہ ایسا شمالی کوریا جو ایک ایسی جوہری میزائل کی صلاحیت کا حامل ہو ۔۔۔۔ یہ ہمیں ناقابل قبول ہے اور یہ ہماری قومی سلامتی کے اہم مفادات کے لیے خطرہ ہے۔"

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے بھی اسی طرح کے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے شمالی کوریا کے جوہری خطرے کو تاریخی نوعیت کا خطرہ قرار دیا۔

بدھ کو بعد ازاں نائب صدر مائیک پینس ، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جم میٹس نے ایک گھنٹے تک پورے ایوان نمائندگان کو بریفنگ دی۔

ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ اور کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن ایڈ رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ"ہمیں کچھ ٹھوس اقدام کرنا ہوں گے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کی کمیٹی آئندہ ہفتوں میں شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی تعزیرات کے ساتھ ساتھ مختلف طریقہ کار پر غور کرے گی۔

دوسری طرف ریپبلکن ایڈم شف نے کہا کہ "اگر کوئی سفارتی طریقہ ہے تو وہ چین کے ذریعے ہی ہے۔"

ایڈم شف نے کہا کہ اتظامیہ کی طرف سے بریفنگ دینے والوں نے اراکین کانگرس کے سوالوں کا جواب سوچ سمجھ کر دیا، تاہم انہوں کسی بھی پیش رفت کرنے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو احتیاط برتنے کا کہا۔

دوسری طرف امریکی بحری جہاز کارل ونسن جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کی طرف رواں دواں ہے۔

جب کہ طاقت کے مزید اظہار کے لیے بحریہ کی جوہری آبدوز یو ایس ایس مشیگان جو گائیڈڈ میزائلوں سے مسلح ہے، جنوبی کوریا کی بوسان بندرگاہ کے قریب موجود ہے۔

ٹرمپ اور امریکی عہدیدار تواتر کے ساتھ یہ کہہ چکے ہیں کہ شمالی کوریا کی طرف سے مزید اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے تمام طریقہ کار "پیش نظر"ہیں۔

دوسری طرف شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے ایک تازہ انتباہ جاری کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا پر جنگ چھڑنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہو گی۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’کے سی این اے‘ نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی بحری فورسز کی مشقوں کو حملہ کرنے کا پیش خیمہ قرار دیا۔

ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ چینی صدر شی جنگ پنگ شمالی کوریا پر کسی مزید اشتعال انگیزی سے باز رہنے کے لیےدباؤ ڈال رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی طرف سے یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ چین شمالی کوریا کو خام تیل کی فراہمی معطل کرنے کا انتباہ کررہا ہے اگر اس نے ایک اور جوہری تجربہ کیا۔


فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG