رسائی کے لنکس

شام: کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، چھان بین کا مطالبہ


فائل

فائل

کیری نے کہا کہ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ اسد حکومت بین الاقوامی معیار اور ضوابط کی دھجیاں اڑا رہی ہے، اور اگر اِن حالیہ الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کی شقوں کی رو سے، بین الاقوامی برادری ایسی بربریت پر صرف نظر نہیں کرسکتی

امریکی وزیر خارجہ، جان کیری نے کہا ہے کہ یہ اطلاعات کہ اسد حکومت کی جانب سے 16 مارچ کو سارمین کے قصبے پر حملے میں ایک بار پھر کلورین کا ہتھیار استعمال کیا گیا، بقول اُن کے، ’اِن رپورٹوں پر امریکہ کو شدید پریشانی لاحق ہے‘۔

محکمہٴخارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک اخباری بیان میں، وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم اس معاملے کا بہت ہی قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔

بقول اُن کے، ’اِس ضمن میں، ابھی اس کی تفصیل نہیں معلوم۔ لیکن، اگر یہ رپورٹ درست ہے، تو یہ اسد حکومت کی طرف سے شام کے عوام کے خلاف کی جانے والی زیادتیوں کی تازہ ترین مثال ہے، جس کی تمام بین الاقوامی برادری کو مذمت کرنی چاہیئے‘۔

کیری نے کہا کہ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ اسد حکومت بین الاقوامی معیار اور ضوابط کی دھجیاں اڑا رہی ہے، اور اگر اِن حالیہ الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کی شقوں کی رو سے، بین الاقوامی برادری ایسی بربریت پر صرف نظر نہیں کر سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ جیسا کہ یہ باتیں ریکارڈ پر آچکی ہیں، اسد حکومت بلا امتیاز فضائی حملوں، شدید بم باری، بلاجواز حراست میں لینے، اذیت، جسمانی تشدد، قتل اور فاقہ کشی کی سزائیں دے کر شام کے عوام میں دہشت بٹھانے کے ہتھکنڈوں پر عمل پیرا ہے۔ بقول اُن کے، ایسے انتہائی قبیح انداز اپنانے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اُن کے الفاظ میں، کیمیائی ہتھیار کے حملے میں کلورین کا استعمال شام کے عوام کے لیے اسد حکومت کی ظالمانہ کارروائی کی تازہ مثال ہے۔ ساتھ ہی، یہ عمل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2209 کی سریح خلاف ورزی ہے۔

جان کیری نے مطالبہ کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق تمام قابل بھروسہ الزامات، جن میں زہریلےصنعتی کیمیلز کا الزام بھی شامل ہے، اُن کی تفتیش کی جانی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG