رسائی کے لنکس

اس میں کوئی شک نہیں کہ گلاب جیسی رنگت اور خوشبو کسی دوسرے پھول میں نہیں ہے۔ گلاب کا سرخ رنگ جذبے اور محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے جبکہ یہ روایتی ویلنٹائن ڈے کا پھول بھی ہے۔

دنیا بھر میں 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پرگلابوں کو مول تول کئے بغیر ہی خریدا جاتا ہے اگرچہ کچھ سالوں پہلے تک ویلنٹائن ڈے کے مہنگے گلاب، صاحب حیثیت افراد ہی خرید سکتے تھے اور عام لوگوں کے لیےیہ ایک فضول خرچی ہوا کرتی تھی لیکن زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ آج ویلنٹائن ڈے ہرخاص وعام کا تہوار بن گیا ہے۔

ویلنٹائن ڈے محبوب کا دن: ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کی ابتداء کب ہوئی اس حوالے سے کئی روایات موجود ہیں لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ محبوب کا دن ہے۔ البتہ محبت کے دن کو سینٹ ویلنٹائن کے نام سے کیا نسبت تھی اس حوالے سے ایک مستند سمجھی جانے والی روایت یہ ہے کہ ،سینٹ ویلنٹائن نے شہنشاہ کی طرف سے شادی پر پابندی کے حکم نامےکی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھپ کر شادی کر لی تھی اور شادی کرنے کے جرم پر اسے روم میں جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ تاہم مورخین کہتے ہیں کہ اس نے اپنی قید کے دنوں میں جیلر کی اندھی بیٹی کی آنکھوں کو شفا بخشی تھی اور پھانسی سے پہلے اس نے اپنے الوداعی خط میں لڑکی کے لیے جو عبارت لکھی اس میں لکھا تھا 'تمھارا ویلنٹائن' جو اس کی خاموش 'محبت کی ایک علامت ' تھی ۔

اس روز کو یونانی دیو مالائی قصے کے ساتھ بھی نسبت دی جاتی ہے جس کے مطابق یہ دیوی اور دیوتاؤں کی ملکہ 'دیوی یونو' کا مقدس دن ہے مورخین کا کہنا ہے کہ محبت کی دیوی کا پسندیدہ پھول گلاب تھا۔

تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہےکہ اپنے پیاروں کو ویلنٹائن کے موقع پرگلاب کا پھول بھیجنے کی روایت دراصل اٹھارویں صدی کی ایک قدیم روایت سے منسوب ہے جس میں گلاب کے گلدستے کو 'غیر زبانی ' پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ویلنٹائن ڈے کے گلابوں کی اصل قیمت : ویلنٹائن کے گلابوں کی قیمتوں کی کمی میں بہت بڑا کردار ان سپر مارکیٹوں کا ہے جو شدید مسابقت کے ماحول میں اس روز سستے داموں میں گلاب کے گلدستے فروخت کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف اس روایت کے ساتھ نیا نیا تعلق استوار کرنے والوں نے گلاب کی صنعت کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

یورپ کا موسم گلاب کی کاشت کے لیے سازگار نہیں ہوتا ہے خاص طور پر فروری کے سرد مہینے میں یہاں گلاب کی مانگ کو پورا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لہذا دوسرے یورپی ملکوں کی طرح برطانیہ میں پھولوں کی مانگ میں مسلسل اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے گرم ممالک سے گلاب درآمد کیے جاتے ہیں۔

لیکن وینٹائن ڈے کے گلاب اتنے سستے کیسے ہو گئے ہیں اور یہ اتنی فراوانی کے ساتھ کہاں سے آرہے ہیں اور کس طرح افریقہ میں صبح کے وقت کھلنے والے پھول اسی شام یورپ میں پھولوں کی نیلامی میں فروخت ہو جاتے ہیں۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہزاروں میل کی دوری پر واقع کینیا کے بڑے بڑے پھولوں کے باغات ہر سال 10,000 ٹن برطانیہ کو درآمد کرتے ہیں۔ کینیا میں سیاحت اور چائے اور کافی کی صنعت کے علاوہ پھولوں کی کاشت لگ بھگ 90,000 کاشت کاروں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔

پھولوں کے باغات میں کام کرنے والوں کے استحصال کےحوالے سے ماضی میں بھی خدشات ظاہر کئے گئے ہیں ۔ روزنامہ مرر کے مطابق کینیا میں پھولوں کی کٹائی کرنے والے کسانوں کو یومیہ 1 پونڈ کے لگ بھگ اجرت ادا کی جاتی ہے جن کا کام سورج کی حدت سے گرم ہو جانے والی پلاسٹک کی سرنگوں کے اندر ایک گھنٹے میں تقریباً 8000 گلاب توڑنا ہوتا ہے۔

ماحولیات سے متعلق ایک سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افریقہ میں پولی ہاؤسز میں اگائے جانے والے گلابوں کی نسبت ہالینڈ کے گرین ہاؤسز میں کاشت کیے جانے والے گلابوں پر کاربن کے زیادہ اثرات ہوتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے گلدستوں میں پھولوں کی تعداد: ایک جائزہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اسی فیصد گلابوں کے گلدستوں کے خریدار مرد ہوتے ہیں۔

البتہ کہا جاتا ہے کہ گلاب کے گلدستے میں پھولوں کی تعداد کا بھی محبت کے اظہار میں اہم کردار ہے۔ عام طور پر گلاب کے گلدستے کو درجن بھر گلابوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ، اس تعداد کو دیو مالائی کہانیوں اور مذہبی روایات میں بھی اہم سمجھا جاتا تھا جبکہ فطرت کے بہت سے پہلوؤں کے ساتھ بھی اس تعداد کا تعلق ہے۔ مثلاً سال کے بارہ مہینے، گھڑی کے بارہ گھنٹے اور ستاروں کے علم کے 'بارہ برج' وغیرہ۔

XS
SM
MD
LG