رسائی کے لنکس

یوکرین میں پاکستانیوں کو کوئی مشکل نہیں: سفیر لاکوموو


یوکرین کے پاکستان میں سفیر ولادیمر لاکوموو

یوکرین کے پاکستان میں سفیر ولادیمر لاکوموو

سفیر لاکوموو نے کہا کہ لگ بھگ دو ہزار پاکستانی یوکرین میں آباد ہیں جن میں سے بہت سے خوشحال کاروباری شخصیات ہیں جو مختلف شہروں میں آباد ہیں۔

یوکرین کے موجودہ حالات خاص طور پر متنازع ریفرنڈم کے بعد نیم خود مختار علاقے کرائمیا کی پارلیمنٹ کی طرف سے روس سے الحاق کی درخواست کے بعد صورت حال پر عالمی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں اس بارے میں تشویش کی وجہ یوکرین میں آباد پاکستانی شہری ہیں۔ لیکن یوکرین کے پاکستان میں سفیر ولادیمر لاکوموو نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ اُن کے ملک میں آباد پاکستانی بخریت ہیں اور اب تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اُن میں سے کسی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

سفیر لاکوموو نے کہا کہ لگ بھگ دو ہزار پاکستانی یوکرین میں آباد ہیں جن میں سے بہت سی خوشحال کاروباری شخصیات ہیں جو مختلف شہروں میں آباد ہیں لیکن اُن کی اکثریت دارالحکومت کیو میں مقیم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی یوکرین کے معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

سفیر لاکوموو نے کہا کہ ایسی کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں کہ یوکرین کی موجودہ حکومت میں پاکستانیوں کو کوئی خطرہ ہے لیکن جہاں تک کرائمیا کی صورت حال ہے اُس کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں کیوں کہ اُن کے بقول کرائمیا کا علاقہ حقیقتاً جارحیت کی زد میں ہے۔

سفیر لاکوموو نے کہا کہ موجودہ حالات میں تاحال کسی پاکستانی نے یوکرین نہیں چھوڑا، لیکن سفیر کے بقول کرائمیا میں پاکستانیوں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کرائمیا میں آباد پاکستانی بھی مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں جن میں سائنس اور تعلیم کے شعبے بھی شامل ہیں۔ سفیر کا کہنا تھا کہ کرائمیا کی ایک یونیورسٹی کے نائب ریکٹر کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔


یوکرین میں عمومی طور پر صورت حال مستحکم ہے اور کوئی بھی شخص ٹکٹ لے کر دنیا کے کسی بھی حصے میں جا سکتا ہے۔

سفیر لاکوموو کا کہنا تھا کہ یوکرین میں آباد پاکستانیوں کے اہل خاندان میں سے کوئی بھی اسلام آباد میں سفارت خانے سے رابطہ کر سکتا ہے۔


لاکوموو کا کہنا تھا کہ اگر کسی پاکستانی کو یوکرین کی صورت حال سے متعلق کوئی سوال پوچھنا ہو تو وہ براہ راست اسلام آباد میں سفارت خانے میں فون کر سکتا ہے جہاں یوکرین کا سفارتی عملے اُنھیں ہر ممکن معلومات فراہم کرے گا۔

یوکرین میں آباد پاکستانیوں کی اکثریت ایسی ہے جو کئی سال پہلے وہاں گئے اور وہیں شادیاں کیں۔ لیکن ایک اچھی خاصی تعداد اُن پاکستانی نوجوانوں کی بھی ہے جو تعلیم کے حصول کے لیے وہاں گئے ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG