رسائی کے لنکس

وہائٹ ہاؤس کی اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو پر تنقید


فائل

فائل

صدر اوباما کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے کہا کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اس فیصلے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں "ذاتیات کا عنصر در آیا ہے"۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کی ایک اہم مشیر نے امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت قبول کرنے پر اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منگل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر اوباما کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے کہا کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اس فیصلے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں "ذاتیات کا عنصر در آیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم کا امریکی کانگریس سے خطاب کا فیصلہ نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ یہ دوستانہ تعلقات کے لیے بھی "تباہ کن" ہوگا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت امریکی ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر نے دی ہے جس پر 'وہائٹ ہاؤس' اور اوباما انتظامیہ نے سخت ناپسندیدگی ظاہر کی تھا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم تین مارچ کو کانگریس سے خطاب کریں گے جس میں قوی امکان ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر تہران حکومت اور امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کی مخالفت کریں گے۔

نیتن یاہو کے امریکی کانگریس سے طے شدہ خطاب کے صرف دو ہفتوں بعد اسرائیل میں عام انتخابات ہورہے ہیں جس میں اسرائیلی وزیرِاعظم کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' جان بینر کی جانب سے اوباما انتظامیہ سے مشورے کے بغیر اسرائیلی وزیرِاعظم کو مدعو کرنے پر برہم ہے اور صدر اوباما اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دورۂ واشنگٹن کے دوران ان سے ملاقات نہیں کریں گے۔

وہائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ انتخابات سے عین قبل نیتن یاہو کے دورۂ امریکہ اور کانگریس سے خطاب کے نتیجے میں یہ تاثر جائے گا کہ امریکہ اسرائیلی انتخابات میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کا حامی ہے اور انہیں دورے کی دعوت دے کر انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

کانگریس کے کئی ڈیموکریٹ ارکان بھی نیتن یاہو کے خطاب کے موقع پر کانگریس کے اجلاس سےغیر حاضر رہنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن بھی، جو آئنیے طور پر سینیٹ کے صدر ہیں اور اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں، غیر ملکی دورے پر ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

اوباما انتظامیہ اور ڈیموکریٹ قانون سازوں کی اس سرد مہری کا جواب اسرائیلی وزیرِاعظم نے ڈیموکریٹ سینیٹرز کی جانب سے علیحدگی میں ملاقات کی دعوت ٹھکرا کر دیا ہے۔

الی نوائے سے منتخب سینیٹر رچرڈ ڈربن نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو دورۂ امریکہ کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹرز کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات کی تحریری دعوت دی تھی۔

سینیٹر ڈربن کے مطابق انہیں اسرائیلی وزیرِاعظم کا جوابی خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ کہہ کر ملاقات سے معذرت کی ہے کہ "ایسی کسی ملاقات سے ان کی جانبداری کا تاثر ابھرے گا"۔

XS
SM
MD
LG