رسائی کے لنکس

خواتین کی سماجی و معاشی ترقی ضروری کیوں؟


گزشتہ دنوں واشنگٹن میں دنیا بھر میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی اور انہیں درپیش مسائل کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔

کہتے ہیں وجود ِزن سے ہے تصویر ِکائنات میں رنگ۔۔۔ اور کیوں نہ ہو؟ خواتین دنیا کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں اور گھریلو ذمہ داریوں سے لے کر زندگی کے لگ بھگ ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔۔۔

گزشتہ دنوں واشنگٹن میں دنیا بھر میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی اور انہیں درپیش مسائل کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مذاکرے میں پاکستان کی نمائندگی لوئر دیر سے تعلق رکھنے والی شاد بیگم نے کی جو گزشتہ چند برسوں میں خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کی ایک موثر آواز بن کر ابھری ہیں۔۔۔

مذاکرے میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا خواتین کے بہتر مستقبل کی امید بندھاتی نظر آتی ہے۔۔۔

ایلن چیسلر، روزیویلٹ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ بطور سینئر فیلو منسلک ہیں اور خواتین کے حقوق پرگزشتہ کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔۔۔ ایلن کا ماننا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مساوی تنخواہ ادا نہیں کی جاتی اور یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔۔۔ وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہ کے ساتھ ساتھ ایسا مضبوط معاشی نظام بھی ملنا چاہیے جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو بچوں کی پیدائش پر تنخواہ کی ادائیگی کے ساتھ چھٹیاں، بچوں کے لیے چائلڈ کیئر جیسی بنیادی سہولتیں حاصل ہوں۔۔۔

شاد بیگم واشنگٹن میں تھنک ٹینک 'نیشنل اینڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی' کے ساتھ فیلو شپ کر رہی ہیں۔۔۔ شاد بیگم کہتی ہیں کہ وطن واپسی پر وہ پشتون خواتین کی فلاح اور انہیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مختلف پروگرامز کا آغاز کریں گی۔۔۔

مزید تفصیلات اس وڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔

XS
SM
MD
LG