رسائی کے لنکس

اسانج نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سعودی کیبلز ایک متلون مزاج اور خفیہ ہونے پر مزید مائل آمریت کا پردہ فاش کرتی ہیں، جس نے ناصرف اس سال 100 واں سر قلم کیا ہے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک اور خود اپنے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔‘‘

شفافیت کی حامی ویب سائٹ وکی لیکس نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب سے آنے والی 60,000 سفارتی کیبلز آن لائن شائع کی ہیں اور آئندہ آنے والے دنوں میں پانچ لاکھ کے قریب دستاویزات حصوں میں تقسیم کر کے شائع کرے گی۔

وکی لیکس نے 2010 میں امریکی محکمہ خارجہ کی کیبلز بھی شائع کی تھیں۔

ان دستاویزات کی صداقت کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی اور واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جمعے کو دستاویزات کی اشاعت وکی لیکس کے بانی جولیاں اسانج کی لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لینے کی تیسری سالگرہ کے موقع پر کی گئی۔ انہوں نے سفارت خانے میں پناہ جنسی جرائم کے الزامات میں سویڈن واپس بھیجے جانے سے بچنے کے لیے لی۔ وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اسانج کا کہنا ہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ سویڈن انہیں امریکہ کے حوالے کر دے گا، جہاں ان کے خلاف امریکی تاریخ میں خفیہ دستاویزات کے ایک بڑے انکشاف پر مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔ اسانج کے سفارت خانے سے باہر قدم رکھتے ہی انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

وکی لیکس کے مطابق وہ سعودی وزارت خارجہ کی کیبلز اور دوسری دستاویزات شائع کر رہی ہے۔ ان دستاویزات میں دنیا بھر سے سعودی سفارت خانوں سے آنے والی خفیہ معلومات کے علاوہ دوسرے اداروں مثلاً وزارتِ داخلہ اور جنرل انٹیلی جنس سروسز سے آنے والی ’’انتہائی حساس‘‘ رپورٹس شامل ہیں۔

اسانج نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سعودی کیبلز ایک متلون مزاج اور خفیہ ہونے پر مزید مائل آمریت کا پردہ فاش کرتی ہیں، جس نے ناصرف اس سال 100 واں سر قلم کیا ہے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک اور خود اپنے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔‘‘

وکی لیکس نے یہ بھی کہا کہ سعودی کیبلز اس بادشاہت کے معاملات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتی ہیں کہ کس طرح اس نے دوسرے ممالک کے ساتھ اتحاد بنائے ہیں اور علاقائی سپر پاور کے طور پر مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس میں اہم افراد اور اداروں کو رشوت دینے اور اپنے ساتھ ملانے کے اقدامات شامل ہیں۔

وکی لیکس نے کہا کہ کیبلز میں سعودی بادشاہت کے انتہائی مرکزیت پسند نوکرشاہی ڈھانچے کی وضاحت بھی ہوتی ہے، جس میں انتہائی معمولی مسائل بھی اعلیٰ ترین عہدیدار حل کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG