رسائی کے لنکس

ماروی میمن بھی اصولوں پر سیاست کرنے والی ۔۔ مستعفی خواتین میں شامل


ماروی میمن بھی اصولوں پر سیاست کرنے والی ۔۔ مستعفی خواتین میں شامل

ماروی میمن بھی اصولوں پر سیاست کرنے والی ۔۔ مستعفی خواتین میں شامل

پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں کسی غیر ذمے دارانہ اقدام پر مستعفی ہونے کے واقعات انگلیوں پر ہی گنے جاسکتے ہیں۔ عجب اتفاق ہے کہ موجودہ ایوانوں میں براجمان اراکین میں سے بیشتر خواتین ہیں اب تک مستعفی ہوئی ہیں ۔مسلم لیگ ق کی ماروی میمن بھی بدھ کو مستعفی ہونے والی خواتین میں شریک ہوگئیں۔ اس سے قبل آل پاکستان مسلم لیگ کی عتیقہ اوڈھو اور مسلم لیگ ن کی شمائلہ رانا ایسی خواتین سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے اوپر مختلف الزامات کے بعد پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ۔عتیقہ اوڈھوپر الزام تھا کہ ان کے سامان سے اسلام آباد ائیر پورٹ پر شراب برآمد ہوئی تھی جبکہ شمائلہ رانا پر الزام تھا کہ انہوں نے چوری کے کریڈٹ کارڈ سے شاپنگ کی تاہم بعد میں یہ الزام ثابت نہ ہو سکا ۔

ان کے علاوہ مسلم لیگ ق کی کشمالہ طارق اور ڈاکٹر نبیلہ جبکہ پیپلزپارٹی کی ناہید خان اور شیری رحمن بھی ایسی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا اور ضمیر کے خلاف کام کرنے کے بجائے اپنے سیاسی کیئریئر کو داؤ پر لگا دیا ۔

ماروی میمن کی سحر انگیز شخصیت عوامی مسائل سے خوب آگاہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے کسی بھی پلیٹ فارم پر بھرپور انداز میں شرکت کرتی رہی ہیں ، ان کی یہ بات شاید پارٹی رہنماوٴں کو پسند نہیں تھی لہذا ماروی میمن اختلافات کے باعث پارٹی رکنیت اور قومی اسمبلی کی رکنیت دونوں سے مستعفی ہو گئیں ۔

دوسری جانب ق لیگ کی ہی کشمالہ طارق پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ پارٹی میں فارووڈ بلاک بنانا چاہتی ہیں جس کے بعد ان کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی۔ ادھر مسلم لیگ ق کی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر نبیلہ نے پارٹی قیادت سے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور مستعفی ہو گئیں ۔

پیپلزپارٹی کی ناہید خان جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے انتہائی قریب سمجھی جاتی تھیں اور ان کے انتقال کے وقت بھی انہی کے ساتھ تھیں ،ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پارٹی کے خلاف بیان بازی کی اوراسی وجہ سے ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی ، ناہید خان کا موقف ہے کہ وہ ہمیشہ سچ کی راہوں پر چلی ہیں۔ انہوں نے اس عمل پر معافی مانگنے کے بجائے اصولی موقف اپنایا ۔

موجودہ حکومت کی سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے اس وقت اپنی ہی حکومت کے خلاف اور آزاد میڈیا کے حق میں آواز بلند کی جب کچھ نجی چینلز پر حکومت کی طرف سے پابندیاں عائد کی گئیں ۔ شیری رحمن نے میڈیا سے وعدہ کر رکھا تھا کہ اگر اس حکومت میں آزادی اظہار پر قدغن کی کوشش کی گئی تو وہ عہدہ چھوڑ دیں گی ،لہذا انہوں نے اس وعدے کی پاسداری کی ۔

جمہوری معاشروں میں ایک عورت کا آگے بڑھنے کاحق مردوں کے مساوی ہوتا ہے۔ پاکستان بھی ایک جمہوری معاشرہ ہے اور یہاں خواتین جس تیزی سے آگے آئی ہیں وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ سال دو ہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی قومی اسمبلی کے 342 ارکان میں خواتین کی تعداد 76 ہے جن میں اسپیکر فہمیدہ مرزا بھی شامل ہیں ۔ اس تعداد میں چاروں صوبوں سے خواتین کے لئے مخصوص 60 نشستیں بھی شامل ہیں۔وفاق کی سب سے بڑی اکائی پنجاب سے تعلق رکھنے خواتین اراکین کی تعداد 35 ہے جس کے بعد 14 خواتین کے ہمراہ سندھ کا نمبر ہے۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی خواتین اراکین کی تعداد بالترتیب آٹھ اور تین ہے۔

XS
SM
MD
LG