رسائی کے لنکس

چین آئی ایم ایف کے اجلاس میں اعلی نمائندے بھیجنے سے انکار


آئی ایم ایف کے عہدیدار (فائل فوٹو)

آئی ایم ایف کے عہدیدار (فائل فوٹو)

یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایک علاقائی تنازع پر چین اور جاپان کے سفارتی تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔

چین نے ٹوکیو میں رواں ہفتے ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اجلاس میں اپنے سب سے اعلی مالیاتی عہدے دار کو بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایک علاقائی تنازع پر چین اور جاپان کے سفارتی تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔

آئی ایم ایف نے بدھ کو ایک اعلامیے میں کہا کہ بیجنگ نے پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر کے دورے کی منسوخی کی وجہ اُن کی مصروفیات بتائیں ہیں۔

پیپلز بینک آف چائنا

پیپلز بینک آف چائنا


چینی بینک کے گورنر نے اجلاس میں ایک اہم لیکچر دینا تھا مگر اب اُن کے نائب کو یہ کام سونپا گیا ہے جن کے ساتھ نائب وزیر خزانہ بھی ٹوکیو جائیں گے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بنیک کے سالانہ اجلاس کے لیے وفد میں شامل چار بڑے بینکوں کے نمائندوں نے بھی جاپان جانے سے انکار کر دیا ہے۔

جاپانی حکام نے ان چینی فیصلوں کو ’’قابل افسوس‘‘ قرار دیا ہے۔

ایسٹ چائنا سی میں ایک غیر آباد مجمع الجزائر پر تنازع نے ایشیا کی ان دو سب سے بڑی معیشتوں کے مابین اہم تجارتی روابط کو پہلے ہی خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

جاپانی کمپنیوں بشمول ٹویاٹا، ہنڈا اور نِسان نے منگل کو انکشاف کیا تھا کہ جاپان مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد چین میں ستمبر کے دوران اُن کی نئی گاڑیوں کی فروخت میں غیر کمی آ گئی تھی۔

احتجاجی مظاہروں کا آغاز حکومت جاپان کی طرف سے متنازع جزائر پر جاپانی مالکان سے زمین خریدنے کے فیصلے کے بعد ہوا تھا۔

آئی ایم ایف کے سربراہ کرسٹین لیگارڈے نے گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں پر علاقائی تنازعے کو جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ کشمکش سے دوچار عالمی میعشت کو چین اور جاپان جیسی معاشی طاقتوں کا بھرپور تعاون درکار ہے۔

چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اُس نے علاقائی تنازع پر جاپان پر اقتصادی تعزیرات کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بحری کشیدگی بھی عروج پر ہے کیونکہ چین کے گشتی جہاز باقاعدگی سے جاپان کے زیر کنٹرول جزیروں کی طرف بھیجھے ہیں۔

متنازع جزائر جاپان میں سنکاکو اور چین میں ڈائیو کے نام سے جانے جاتے ہیں جو ماہی گیری اور توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔

جاپان کا کہنا ہے کہ متنازع جزائر میں سے کچھ کو خریدنے کا فیصلہ اُس نے خطے کے استحکام کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا تھا کیونکہ ٹوکیو کے قوم پرست گورنر نے ان علاقوں کو خرید کر وہاں آباد کاری کی دھمکی دی تھی۔

لیکن اس فیصلے نے چین کو مشتعل کردیا کیونکہ وہ ان جزائر کو چینی خطے کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے جو انیسویں صدی کے اختتام پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے بعد جاپان نے ’’چُرا‘‘ لیے تھے۔
XS
SM
MD
LG