رسائی کے لنکس

جاپان: تبت میں آزادیوں کی حمایت

  • واشنگٹن

ٹوکیو میں دلائی لامہ کی سابق وزیر اعظم شینزو سے ملاقات

ٹوکیو میں دلائی لامہ کی سابق وزیر اعظم شینزو سے ملاقات

جاپان کے قانون سازوں کے ساتھ اپنی ملاقات میں دلائی لامہ نے انہیں تبت کے دورے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں جاکر ان زمینی حقائق کامشاہدہ کریں جو خود سوزیوں کی حالیہ لہر کا سبب بنے ہیں۔

جاپان کے ایک سابق وزیر اعظم نے منگل کے روز تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کی اور تبت کے علاقے میں آزادیاں فراہم کرنے پر زور دیا۔

چین نے اپنے فوری ردعمل میں اس مطالبے کی مذمت کی ہے۔

جاپان کے سابق وزیر اعظم شن زو ابے ، جو ایک بے باک قوم پرست ہیں اور بیجنگ پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں، منگل کے روز ٹوکیو میں بودھ راہنما دلائی لامہ سے ملاقات کرنے والے پارلیمنٹ کے 130 ارکان میں شامل تھے ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم قانون ساز یہاں اس لیے اکھٹے ہوئے ہیں کہ مشکلات میں گھرے تبتیوں کی مدد کی کوششوں کو آگے بڑھا سکیں اور ایک ایسے تبت کی تشکیل کی راہ ہموار کرسکیں جہاں انہیں اپنی آزادیوں کے لیے خود سوزی نہ کرنی پڑے۔

جاپان کے قانون سازوں کے ساتھ اپنی ملاقات میں دلائی لامہ نے انہیں تبت کے دورے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں جاکر ان زمینی حقائق کامشاہدہ کریں جو خود سوزیوں کی حالیہ لہر کا سبب بنے ہیں۔

دلائی لامہ نے چینی کے حکام سے بھی یہ اپیل کی کہ وہ تبت میں چینی اقتدار کے خلاف جاری احتجاج کی گہرائی میں جاکر تحقیقات کریں۔

اس کے ردعمل میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے دلائی لامہ اور جاپانی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں علیحدگی کی انتہاپسند تنظموں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

جاپان اور چین کے تعلقات حالیہ مہینوں میں ٹوکیو کی جانب سے مشرقی بحیرہ چین میں واقع تین غیر آباد جزیروں کو قومی ملکیت میں لینے کے اعلان کےبعد سے دباؤ میں ہیں کیونکہ چین بھی ان متنازعہ جزیروں کی ملکیت کا دعویدار ہے۔

تبت پر چین کی سخت پالیسیوں اور اقتدار کے خلاف فروری 2009 سے شروع ہونے والی خودسوزی کی لہر میں اب تک 72 افراد خود کو نذرآتش کرچکے ہیں، جن میں سے 58 ہلاک ہوگئے تھے۔
XS
SM
MD
LG