رسائی کے لنکس

مقامی اسکولوں میں تقریباً 700 لڑکیاں زیرتعلیم ہیں۔ یہاں آٹھ سال کی عمر کو پہنچنے والی لڑکیوں کو ’تعلیم بالغاں' کا پہلا سبق پڑھا دیا جاتا ہے

دیہی علاقوں میں واقع لڑکیوں کے اسکولوں میں ’تعلیم بالغاں‘ یا ’جنسی تعلیم‘۔۔۔ پاکستان کے18 کروڑ آبادی والے اعتدال پسند مسلم معاشرے میں یہ جملہ کسی زلزلے سے کم نہیں۔

’جنسی تعلیم‘۔۔۔ اور وہ بھی دیہات میں۔۔۔اور لڑکیوں کے اسکولوں میں ۔۔۔یہ سب پہلو کسی کو بھی جھنجوڑنے کے لئے کافی ہیں، کیوں کہ ملک میں کہیں بھی اس قسم کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں۔ کچھ علاقوں میں تو اس پر پابندی ہے، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ’شجر ممنوعہ‘ ہے۔

تاہم، برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ غریبی میں جکڑے صوبہٴسندھ کا ایک دیہی علاقہ۔۔’جوہی‘۔۔۔ ایسا بھی ہے جہاں آباد بیشتر خاندان ’تعلیم بالغاں‘ منصوبوں کے مکمل حمایتی ہیں۔

’دیہہ شاد آباد آرگنائزیشن‘ کے زیر اہتمام چلنے والے 8 مقامی اسکولوں میں تقریباً 700 لڑکیاں زیرتعلیم ہیں۔ یہاں آٹھ سال کی عمر کو پہنچے والی لڑکیوں کو تعلیم بالغاں کا پہلا سبق پڑھادیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی فطری تبدیلوں سے آگہی حاصل کرے، اسے کون کون سے حقوق حاصل ہیں اور کس طرح آپ اپنی حفاظت کر سکتی ہے۔

دیہہ شادآباد تنظیم کے سربراہ، اکبر لاشاری کا کہنا ہے، ’لوگ اس موضوع پر تبادلہٴخیال کے بھی روادار نہیں۔ لیکن، اس موضوع کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔۔یہ زندگی کی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔‘

زندگی کی حقیقت
اکبر لاشاری کے بقول، ’دیہات کی بیشتر لڑکیاں ’سن بلوغت‘ کا مطلب سمجھے بغیر بیاہ دی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ’ازدواجی زندگی‘ سے وہ بالکل ناواقف ہوتی ہیں۔ ہم انہیں اس بات سے آگاہ کرتے ہیں کہ ان کے شوہربھی ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔‘

ان اسکولوں میں ریگولر کلاسز کے بعد اضافی سیشنز کے دوران ’بالغ مسائل‘ پر تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیم سے متعلق لڑکیوں کے والدین کو انرولمنٹ کے وقت ہی آگاہ کردیا جاتا ہے۔ اکبر لاشاری کا کہنا ہے کہ اس پر آج تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کبھی کسی قسم کی مخالفت کا سامنا ہوا ہے۔

گاوٴں کے آٹھوں اسکولوں کو ’بی ایچ پی بلیٹن‘ نامی ایک آسٹریلیوی کمپنی اسپانسر کرتی ہے۔ یہی کمپنی قریب ہی واقع ایک گیس پلانٹ کو بھی آپریٹ کرنے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن، اکبر لاشاری کا کہنا ہے کہ تعلیم بالغاں کا آئیڈیا گاوٴں والوں کا اپنا تھا۔

اسکول کی ایک ٹیچر، سارا بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کو بلوغت سے متعلق مسائل سے آگاہ کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ، ’زیادہ تر لڑکیاں مخصوص ایام کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرماتی ہیں۔ وہ والدین کو بھی اس سے آگاہ نہیں کرتیں اور خود کو ’بیمار‘ تصور کرتی ہیں۔ ان کا پہلا خیال یہی ہوتا ہے کہ انہیں کسی بیماری نے آگھیرا ہے۔‘

سارا بلوچ کا کہنا ہے کہ تعلیم بالغاں کی کلاس میں عموماً بہت ساری لڑکیاں ہوتی ہیں، یہاں تک کہ نشستیں کم پڑجاتی ہیں اور دو افراد کے لئے بنائی گئی نشست پر تین لڑکیاں بیٹھتی ہیں۔ لڑکیوں کی کثیر تعداد کے سبب یہ کلاس مخصوص کمروں میں نہیں ہوسکتی۔ لہذا، انہیں کلاس رومز سے باہر بیٹھانا پڑتا ہے۔ کلاس کے وقت مکمل خاموشی ہوتی ہے اور لڑکیاں بہت توجہ سے انہیں سنتی اور سوال کرتی ہیں۔

سارا بلوچ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو شادی کے بعد پیش آنے والے مخصوص قسم کے مسائل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ سولہ سال کی ایک لڑکی ساجدہ کا کہنا ہے کہ تعلیم لینے کے بعد اب وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔

آنے والے وقتوں میں ۔۔۔
پاکستان کے نامور اسکولوں میں سے ایک ’بیکن ہاوٴس اسکول سسٹم‘ بھی اپنے اسکولوں میں اسی نوعیت کی تعلیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بیکن ہاوٴس کی ڈائریکٹر آف اسٹیڈیز، روہی حق کا کہنا ہے ’سیکس سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے لڑکیاں خوفزدہ ہوتی ہیں۔ لیکن، اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک مصنف ارشد جاوید کا کہنا ہے کہ انہوں نے تعلیم بالغاں پر تین کتابیں لکھی ہیں۔ وہ ان کی ہر سال تقریباً 7000 کاپیاں فروخت کرتے ہیں۔ لیکن، ان میں سے ایک بھی کتاب کسی اسکول میں فروخت نہیں ہوئی۔

ان تمام حقیقتوں کے باوجود، ہر کوئی اس خاص تعلیم کو عام کرنے پر رضامند نہیں۔ ان کے نزدیک نوجوان خود ہی ’بڑے‘ ہوکر سب کچھ سمجھ جاتے ہیں۔

حال ہی میں حکومت نے لاہور گرامر اسکول کو نصاب سے جنسی تعلیم پر مشتمل تمام اسباق حذف کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔’آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن‘ کے صدر، مرزا کاشف علی کا کہنا ہے کہ’ایسی تعلیم ملکی آئین اور ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔‘ اس فیڈریشن کے تحت چلنے والے اسکولوں میں 152000طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

کاشف علی کے الفاظ میں: ’جو کام آپ نے وقت سے پہلے کرنا ہی نہیں، اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں جلدی کیا کرنی؟ جنسی تعلیم کی اجازت کم ازکم اسکولوں کی سطح پر تو ہونی ہی نہیں چاہئے۔‘

پڑوسی ملک بھارت میں بہت سے ایسے سرکاری اسکول ہیں جہاں یہ تعلیم معمول ہے۔ لیکن، پاکستان کے سرکاری اسکولوں کے مستقبل سے متعلق منصوبوں میں بھی اسے عام کرنے کی کوئی حکمتِ عملی موجود نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم نثار احمد کُھہڑو کو جب جوہی کے اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔ وہ تقریباً چونک سے گئے۔ ان کا کہنا تھا ’لڑکیوں کو جنسی تعلیم۔۔۔؟ یہ بھلا کس طرح ممکن ہے۔۔۔؟یہ تو ہمارے نصاب کا حصہ ہی نہیں۔‘

لیکن، پاکستان علماٴ کونسل کے رہنما، طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ شریعت کے مطابق اس نوعیت کی تعلیم کوئی بری بات نہیں۔ اسلام میں اس کی کوئی ممانعت بھی نہیں۔ اگر ٹیچر ’خاتون‘ ہو تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے وہ دوسری لڑکیوں کو اس قسم کی تعلیم دے سکتی ہے۔‘
XS
SM
MD
LG