رسائی کے لنکس

افغان حکومت اور طالبان کے وفود قطر میں ملاقات کریں گے


جون 2013ء میں افغان طالبان کے دوحا میں نمائندہ دفتر کے افتتاح کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

جون 2013ء میں افغان طالبان کے دوحا میں نمائندہ دفتر کے افتتاح کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

طالبان عہدیدار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا جس میں افغان حکومت کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا نیا دور آئندہ چند روز میں منعقد ہوگا۔

افغانستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی جانے والی 'شوریٔ عالی صلح' (ہائی پیس کونسل) کے نائب سربراہ عطااللہ الدین نے کابل میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ بات چیت قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اتوار اور پیر کو ہونے والی بات چیت میں افغان حکومت کی نمائندگی 20 رکنی وفد کرے گا جو قطر روانہ ہوچکا ہے۔

قطر میں موجود طالبان کے ایک نمائندے نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے افغان حکومت کےساتھ آئندہ ہفتے ہونے والی بات چیت کی تصدیق کی ہے۔

طالبان عہدیدار نے بتایا کہ بات چیت کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا جس میں افغان حکومت کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ قطر میں موجود طالبان کے نمائندوں کو طالبان تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر کا اعتماد اور مذاکرات کرنے کی اجازت حاصل ہے یا وہ اپنے تئیں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ الدین نے بتایا کہ بات چیت کا کوئی ایجنڈا مقرر نہیں کیا گیا لیکن اس کا مقصد افغانستان میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے ہونے والی بات چیت میں افغانستان، پاکستان، طالبان اور بعض دیگر تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

عطااللہ الدین نے صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت میں افغانستان کے سابق وزیرِاعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت 'حزبِ اسلامی' کے دو نمائندے بھی شریک ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حزبِ اسلامی افغانستان کے سیاسی عمل میں شریک ہونے کے باوجود طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت بھی کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG