رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں توسیع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع کا یہ فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی مدت کو دسمبر 2017 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی حکومت نے اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں قیام کی مدت 31 مارچ 2017ء تک مقرر کر رکھی تھی۔

پاکستان میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم افغان پناہ گزینوں کی اُن کے اپنے ملک واپسی سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے رواں ماہ اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے ایک مشاورتی اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کی مدت کو دسمبر 2017 تک بڑھایا جائے۔

بدھ کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع کا یہ فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

’’آج کی کابینہ کے اجلاس میں ایک فیصلہ ہوا کہ دسمبر 2017 تک افغان مہاجرین کو واپس جانا پڑے گا۔۔۔۔ (پناہ گزینوں) کی مختلف کیٹرگریز (یا درجے ہیں) اور اُن پر الگ الگ کر کے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں بات چیت کی جائے گی۔‘‘

رواں ماہ اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں یہ سفارشات بھی پیش کی گئی تھیں کہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے کوائف کا اندارج کیا جائے جب کہ اس کے علاوہ ایسے افغان جن کی پاکستان میں شادیاں ہوئیں، یا افغان طالب علموں، مریضوں اور کاروبار سے وابستہ افغانوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اُن کی سہولت کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہیئے۔

لیکن ان سفارشات کی حتمی منظوری کابینہ ہی دے سکتی ہے۔

ملک میں سرکاری اندازوں کے مطابق لگ بھگ 15 لاکھ افغان پناہ گزین باقاعدہ اندراج کے ساتھ جب کہ تقریباً 10 لاکھ بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG