رسائی کے لنکس

انتخابات کی نگرانی کرنے والے یورپی مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ اسٹیشنز پر صورتحال بھی تسلی بخش ہی رہی۔

افغانستان میں نئے صدر کے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے اور مجموعی طور پر اس دوران کسی بھی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدواروں میں سے کوئی بھی کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرسکا تھا جس کی وجہ سے یہ انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد کرنا پڑا۔

پہلے مرحلے میں تقریباً 45 فیصد ووٹ حاصل کرنے والے سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور 33 فیصد ووٹ پانے والے اشرف غنی احمد زئی کے درمیان دوسرے مرحلے میں مقابلہ ہوا۔

طالبان کی طرف سے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی دھمکیوں کے بعد پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ملک بھر میں لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

ہفتہ کی صبح کابل میں اکا دکا دھماکوں اور راکٹ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس میں ایک شخص زخمی ہوئی لیکن بحیثیت مجموعی کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوا۔

افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے جنہوں نے پہلے مرحلے کی پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے یورپی مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ اسٹیشنز
پر صورتحال بھی تسلی بخش ہی رہی۔

افغان صدر حامد کرزئی دو بار ملک کے صدر رہنے کے بعد آئینی طور پر تیسری مرتبہ اس منصب کے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ انھوں نے کابل میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے بعد کہا کہ افغانستان نے استحکام، ترقی اور امن کی جانب ایک قدم اٹھایا ہے۔

یہ افغانستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ یہاں جمہوری انداز میں انتقال اقتدار ہو گا۔

کابل میں مقیم ایک کاروباری شخصیت عبدالحمید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لوگ جنگ و جدل سے تنگ آچکے ہیں اور وہ ملک میں امن چاہتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ انتخابات سے ملک امن کی جانب بڑھے گا۔

"جھگڑے کی نسبت انتخابات زیادہ بہتر ہے اور ہمیں خوشی ہے، ہم خوش بھی ہیں اور یہ انتخابات سے معاملہ زیادہ اچھا ہو جائے گا۔"

رواں سال کے اواخر میں جنگ سے تباہ حال اس ملک سے بین الاقوامی افواج اپنے وطن واپس چلی جائیں گی اور اسی تناظر میں مبصرین یہ کہتے آئے ہیں کہ نئے صدر کے لیے افغانستان کی دگر گوں معیشت کی بحالی کے علاوہ امن و امان کی صورتحال کو سنبھالا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
XS
SM
MD
LG