رسائی کے لنکس

افغانستان: خودکش بم دھماکے میں تین بچوں سمیت چار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشتبہ طور پر روسی زبان بولنے والی خاتون سے تفتیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ اس نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک خودکش دھماکے میں تین بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان عطااللہ خوگیانی کے مطابق یہ واقعہ مرکزی شہر جلال آباد میں پیش آیا جہاں انٹیلی جنس ادارے "نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی" کے اہلکاروں نے ایک چیک پوسٹ کے قریب عسکریت پسندوں سے تعلق کے شبے میں ایک خاتون کو روکا۔

ان کے بقول یہ غیر ملکی خاتون مبینہ طور پر روسی زبان بول رہی تھی اور اس کے ساتھ تین بچے بھی تھے۔

اس خاتون سے تفتیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ اس نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

دھماکے سے تین بچے اور وہاں موجود انٹیلی جنس ادارے کا ایک اہلکار ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کی تاحال نہ تو طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی یہاں سرگرم داعش سے وابستہ شدت پسندوں نے اس کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کی سرحد سے ملحق اس صوبے میں داعش سے وابستہ عسکریت پسند کارروائیاں کرتے آرہے ہیں جب کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والے مختلف پرتشدد واقعات کی ذمہ داری بھی انھوں نے قبول کی تھی۔

مختلف علاقوں میں طالبان اور ان عسکریت پسندوں کے درمیان مہلک جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جب کہ مشتبہ امریکی ڈرون طیاروں سے بھی داعش سے وفاداری کا اعلان کرنے والے ان شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کرنے والے شدت پسند گروپ داعش نے اپنا دائرہ اثر خراسان تک بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے خراسان میں افغانستان اور پاکستان سمیت اس کے قریبی علاقے شامل ہیں۔

افغانستان میں موجود طالبان اس شدت پسند گروپ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے جنگ سے تباہ حال ملک میں اپنی سرگرمیوں سے باز رہنے کا کہہ چکے تھے جس کے بعد اس گروپ سے وابستگی کا اعلان کرنے والوں اور طالبان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی آ رہی ہیں۔

داعش کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف امریکہ کی زیرقیادت اتحادی ممالک عراق اور شام میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ رواں ہفتے ہی اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھی خطے میں داعش کے ابھرتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG