رسائی کے لنکس

افغان طالبان کی پاکستان میں مبینہ ملاقات پر افغانستان کے تحفظات


ملا اختر منصور

ملا اختر منصور

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان شکیب مستغنی کا کہنا تھا کہ "پاکستانیوں کو کیسا محسوس ہوگا اگر پاکستانی طالبان افغانستان کے بڑے شہروں جیسے کہ جلال آباد میں میں میل ملاقاتیں کریں۔"

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں قابل ذکر بہتری کو خطے میں سلامتی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا تھا لیکن رواں ماہ کے اوائل میں طالبان کے افغانستان میں ہلاکت خیز حملوں کے بعد افغان قیادت ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف انگلیاں اٹھا رہی ہے۔

طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور نے اپنی قیادت کو جائز قرار دینے کے لیے مختلف طالبان اکابرین سے ملاقاتیں کی ہیں جن کے بارے میں افغانستان کا دعویٰ ہے کہ یہ سلسلہ پاکستان میں جاری ہے جس پر اسے شدید تحفظات ہیں۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان شکیب مستغنی کا کہنا تھا کہ "پاکستانیوں کو کیسا محسوس ہو گا اگر پاکستانی طالبان افغانستان کے بڑے شہروں جیسے کہ جلال آباد میں میل ملاقاتیں کریں۔"

تاہم پاکستانی حکام باور کرتے ہیں افغان طالبان کی ملاقاتیں افغانستان میں ہی ہو رہی ہیں۔

جولائی کے اواخر میں طالبان کے امیر ملا عمر کے انتقال کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ملا منصور کو طالبان نے اپنا نیا سربراہ مقرر کیا تھا جنہیں دہشت گرد تنظیموں القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہے، لیکن بعض دھڑوں بشمول ملا عمر کے بھائی اور صاحبزادے نے نئے امیر کو تسلیم نہیں کیا۔

اس آپسی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ملا منصور نے اپنی تحریک کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور طالبان کے ترجمان کے مطابق ان میں سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سنا لیکن اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا فیصلہ تاحال نہیں ہوا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایک ہفتے کے دوران طالبان نے کابل سمیت مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور حملے کر کے 70 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے پہلی بار پاکستان سے متعلق تلخ لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ "طالبان کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں اور اسے چاہیے کہ وہ انھیں ختم کرے۔"

پاکستان نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کرتا ہے اور افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اپنے مثبت کردار اور تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستانی فوج نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ایک سال سے آپریشن شروع کر رکھا ہے اور حکام کے بقول اس میں بلاتفریق تمام دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات کی میزبانی گزشتہ ماہ کے اوائل میں کی تھی اور اس سلسلے کی دوسری طے شدہ ملاقات ملا عمر کے انتقال کی خبروں کے بعد موخر کر دی گئی۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ موخر ہوا ہے ختم نہیں۔ لیکن رواں ماہ افغانستان میں پیش آنے والے واقعات اور طالبان کے آپسی اختلافات کے تناظر میں فی الوقت ان مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں شک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG